Oct 7, 2020
Jul 30, 2020
جوہر افشانی (PDF) اب پڑھنا بہت آسان
الحمداللہ ایک سنگ میل عبور ہوا۔ در دستک بلاگ سے69 منتخب مضامین کو میں نے پی ڈی ایف کتاب کی شکل میں اس طرح ترتیب دیا ہے کہ اب پڑھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ فہرست مضامین میں کسی بھی عنوان پر کلک کر نے سےہم تحریرکےصفحہ پر چلے جائیں گے اور مضمون کے آخر میں "واپس اوپر جائیں" پر کلک کرنے سے دوبارہ فہرست مضامین پر آجائیں گے۔ حروف کے سائز کو اتنا رکھا گیا ہے کہ سیل فون پر ڈاؤن لوڈ کر کے بھی آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے ۔ مضامین کو تسلسل سے 1 تا 405 صفحات کی پوری کتاب پڑھنے کی بجائے کسی بھی عنوان کو کلک کر کے صرف وہی تحریر پڑھی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا نے مضبوطی سے عوام الناس کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا ہے۔ جہاں کے معیارات مختلف ہیں اور خاص طور پر نوجوان نسل کی ترجیحات اور دلچسپی کا بہت سامان سوشل میڈیا فراہم کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھنے کا رحجان کم پڑ رہا ہے اور دیکھنے اور سننے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں بہت سے لکھنے والے بلاگستان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم سیکھ سیکھ کر یہاں پہنچے ہیں۔ بلاگرز نے بلاگز بنانے کے لئے دوسروں کے لئے راہیں ہموار کی ہیں۔ جس سے میں نے بہت سیکھا۔ بلاگستان سے میرا تعلق 25 مئی 2009 سے ہے۔ نئی نسل کے وہ لوگ جو کچھ پڑھنا چاہتے ہیں ، سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے ہمیں کچھ بچا کر رکھنا چاہیئے۔ آنے والے وقت میں صرف فیس رہ جائیں اور بک ختم نہ ہو جائیں۔اسی بات مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اپنے چیدہ چیدہ مضامین کو پی ڈی ایف میں محفوظ رکھنے کی ایک کوشش کی ہے تاکہ پڑھنے والے کی چوائس بڑھ جائے اور وقت کی بچت بھی ہو۔
Jun 24, 2020
کبھی آہ دل سے گزرے
(یہ ایک کہانی نہیں ایک سچائی ہے۔چھبیس سال کی عمر میں تین کمسن بچوں کی ماں جب بیوہ ہو نے پر ایمان و توکل کا تاج پہن لیتی ہے اور اپنے ارد گرد سے نظریں چرا کر نگاہیں آسمان کی طرف کر لیتی ہے تو آہ عرش تک کا سفر لمحوں میں کرتی ہے)
انسان مستقبل میں جینا چاہتا ہے اور ماضی سے جان چھڑوانا لیکن
معمولات زندگی اسے باندھ کر رکھتے ہیں۔ پیچھے جا نہیں سکتا آگے
بڑھنے میں مصلحت تو کبھی خوف آڑے آ جاتا ہے۔جینے کے لئے کسی نئے ڈھنگ کی ضرورت
نہیں ہوتی ، بس لسی میں پانی بڑھاتے جاؤ تاوقتکہ چٹیائی ختم نہ ہو جائے۔انسان
بستیوں میں رہتے تھے مگر معاشرتی بد اعمالیوں کے ساتھ۔ جس نے صحیح راستہ دکھایا
اسی کے درپے ہو گئے ، آباؤاجداد کے رسم ورواج اور دین سے ہٹنے والے
نہیں تھے۔ گروہ در گروہ جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں غرق تھے۔نیکی اور اچھائی
کی بات نہ سننے اور نہ ہی ماننے کی روش پر قائم معاشرتی اقدار پر جمے ہوئے
تھے۔وعدوں اور عہدوں سے مکر جانا جن کا معمول تھا۔ یقین سے خالی اور شکوک سے بھرے
ہوئے تھے۔ اپنے مفاد کے لئے دوسروں کا نقصان کر دینے سے بھی گریز نہ کرتے۔ یقین
تھا تو صرف اسی بات کا کہ جو ہے جتنا ہے فقط انہی کا ہے۔ اللہ اپنی راہ میں خرچ
کرنے کی تلقین بھی کرتا ہے اور حکم بھی دیتا ہے۔پھر اس کے بدلے سات سو گنا لوٹائے
جانے کی نوید بھی دیتا ہے۔لیکن انسان نے کبھی اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ کیونکہ وہ تو
خسارے میں رہنے والا ہے۔
زندگی
جنگل کے اندر صدیوں جیسی مسافت کی مانند ہے جہاں راستہ بناتی
پگڈنڈیوں پر چلنا پڑتا ہے۔ بوقت ضرورت راستے سے ہٹ کر کہیں سستا لینے
کے لئے پڑاؤ کرنا پڑتا ہے۔ درختوں سے پھل اور میوہ سے بھوک مٹا کر اور بہتے چشمے
سے پانی سے سیر ہونے کے بعد پھر سے سفر کے راستہ پر نکلنا پڑتا ہے۔ آہ دل سے اور
چشم تر کیسے گزرتی ہے ، صرف وہی جان سکتے ہیں جو اس سفر سے
گزرے ہوں۔
یہ
ایک کہانی نہیں ایک سچائی ہے۔ جب آہ عرش تک کا سفر لمحوں میں کرتی
ہے اور آنسو پلکوں سے بہنے سے پہلے حکم ربی کے سامنے سر نگوں کرنے والا
بے آب ماہی کی طرح تڑپنے پر اپنی ہتھیلیوں پر آنسوؤں کی شدت تڑپ کو محسوس کر لیتا
ہے۔
چھبیس
سال کی عمر میں تین کمسن بچوں کی ماں جب بیوہ ہو نے پر ایمان و توکل کا تاج پہن
لیتی ہے اور اپنے ارد گرد سے نظریں چرا کر نگاہیں آسمان کی طرف کر لیتی ہے تو رب
جلیل کے حکم پر زمین پر چلتا ایک بدکے ہوئے گھوڑے جیسا
انسان چیونٹی کی مانند بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔
وہ !
اپنے
بچوں کے عید کے نئے کپڑوں کی خریداری کے لئے رقم ان کے ماں کے حوالے کر
کے گاڑی میں مسحور کرنے والے گانوں کے بول سنتا اپنی زمینوں
کی طرف رواں دواں تھا کہ کچھ عرصہ قبل اس فانی دنیا سے کوچ کر جانے
والا اس کا ہمسایہ اور دوست اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی شکل کا تصور
چھوڑ جاتا۔ اچھے انسان کا یاد آنا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ اکثر
مرحوم کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتا۔ لیکن آج تصور ایسا تھا جیسے کوئی بے چینی میں
اسے جھنجھوڑ رہا ہو۔سارا دن وہ زمینوں میں اِدھر سے اُدھر بلا وجہ چلتا
رہا ۔ بے سکونی نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا ۔ ایک ہی چہرہ مسلسل کئی گھنٹوں سے اسے
پریشانی کے عالم میں جہاں جہاں اس کی نظر پڑتی محسوس ہوتا۔
ایک
خیال نے اسے رنجیدہ کر دیا کہ میں نے اپنے بچوں کے لئے عید کے نئے
کپڑوں کا اہتمام کیا اور اس کے ہمسائے میں تین معصوم بچے عید کے دن کیا
نئے کپڑے پہن پائیں گے۔ شام کو گھر واپس لوٹتے ہی اس نے اپنی بیگم کے ہاتھ میں کچھ
رقم دے کر کہا کہ ان کے گھر جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ بچوں کے
لئے کپڑے خرید لیں۔
جس
وقت ایک چہرہ جہاں جہاں وہ رخ کرتا اس کے سامنے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
اسی دن مرحوم کی معصوم سی بڑی بیٹی بازار میں اپنی ماں سے ایک سوٹ
خریدنے کی فرمائش کر رہی تھی۔ جسے خریدنے کی ایک بیوہ ماں کی سکت نہیں تھی۔
معصوم
بچی رونے لگی اور ماں دل گرفتہ ہوئی ۔ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے
والےخالق کائنات نےعرش سے ایک خیال کے ذریعے ذمہ
داری کا احساس پیدا کیا۔ بظاہر بچے ننھیال
ددھیال کی آنکھ کا تارا تھے اور حقیقت تو تب آشکار ہوتی اگر اس پر سے پردہ کبھی
اٹھا ہوتا۔ چھبیس برس کی عمر میں بیوگی کا لبادہ اوڑھنے والی ایک باوقار ، با حیا
اور باکردار عورت نے اپنا حال اللہ کے علاوہ کبھی کسی کو نہ دکھایا۔
اللہ
تبارک تعالی نے ایک ایسے انسان کو ان کے لئے بے چین کر دیا جو فالج اور
الزائمر کی بیماری میں مبتلا اپنے بوڑھے باپ کی خدمت میں
ایسے مگن تھا کہ اسے دنیا میں کوئی خاص رغبت نہیں تھی۔ وہ روح اور جسم کے باہمی
تعلق کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف عمل تھا۔ اپنی ناک کو خاک آلود ہونے سے بچانے کے
لئے اور فرمان رب کریم کی طرف سے والدین کی خدمت
میں کسی کمی،کوتاہی سے بچنے کی تگ و
دو میں مصروف عمل تھا۔
تب اسے
اس احساس نے آ گھیرا کہ گھر کی دیوار کے دوسری طرف یتیم بچوں کے آنسوؤں
کا بوجھ وہ روز قیامت کیسے اٹھائے گا۔ تین بچوں کی بیوہ
ماں صرف اللہ تبارک تعالی سے مدد کی طلبگار تھی۔
نہ
جانے اس کی دعا میں کتنا درد تھا کہ وہ ہمیشہ بے چین ہو جاتا ،
زندگی جینا مشکل ہو جاتا ۔ اپنی شریک حیات سے کہتا کہ
انہیں پوچھو مسئلہ کیا ہے۔ ہمیشہ سب
اچھا کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش ہوتی لیکن اللہ تبارک تعالی اپنے نیک
بندوں کی مدد میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔ سکون کھو جانے اور بے چینی بڑھ جانے پر
وہ کہتا کہ اگر سب اچھا ہے تو اسے سکون کیوں میسر نہیں۔ آخر
کار وہ مسئلہ حل ہونے کے بعد اسے سکون میسر آتا۔
اللہ
تبارک تعالی کی طرف سے ملنے والی مدد کو ایک بیوہ ماں احسان سمجھ کر انا و خودداری
کی چادر کو اور مضبوطی سے اوڑھ لیتی۔ زندگی کے شب و روز گزرتے گزرتے بچے جوانی کی
دہلیز تک آ پہنچے۔ بچوں کی شادیوں کے موقع پر انتہائی
پریشانی کے عالم میں ایک ماں کی اللہ سے نہ جانے کیسے التجائے دعا ہوتی کہ
اُس پر چھائےبے سکونی اور بے چینی کے بادل چھٹنے کا نام ہی نہ لیتے
تھے۔ بار بار پوچھنے پر سب اچھا ہے ، شادی کی
تیاری بھی ٹھیک ہے کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی جاتی
لیکن اللہ تو سب جانتا ہے جو ظاہر ہے اور جو دلوں میں ہے۔ نہ چین تھا
اور نہ ہی سکون اُسے، وہی "سب اچھا ہے" کا جواب اسے مطمئن نہ
کرپاتا جب تک کہ پریشانی کا موجب مسئلہ حل نہ ہو جاتا۔
پریشانیاں باقاعدگی سےآتی رہیں اور اللہ تبارک تعالی کے حکم سے دور
ہوتی رہیں۔ وقت کی بے رحم موجوں سے لڑتے لڑتے آج اس گھر میں خوشیوں سے
بھرپور زندگی ہے۔ لیکن اللہ تبارک تعالی سے ان کا تعلق آج
بھی ویسا ہی ہے۔ جب بھی انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اللہ تبارک تعالی کی
طرف سے مدد پہنچ جاتی ہے۔ چند دن سے زیادہ پریشانی میں اللہ کی پاک ذات
مبتلا نہیں ہونے دیتی۔
بظاہر
یہ ایک تخیل سے بُنی گئی کہانی کا سکرپٹ دکھائی دے گا۔ لیکن اللہ تبارک تعالی اپنے
نیک بندوں کا خیال کیسے کرتا ہے اور اُن کی مدد کے لئے کسی انسان کو چن لیتا ہے
اور اسے اس کام پر ایسے لگا دیتا ہے کہ وہ خود حیران رہ جاتے ہیں۔ عام
لوگ قصے کہانیوں کو حقیقت کا رنگ دینے کے اتنے عادی ہوتے ہیں کہ
اللہ تبارک تعالی کے قائم کردہ خودکار نظام کی
حقیقت کو تسلیم کرنے میں حیل و حجت اور شک و شبہ کے درمیان
کہیں اٹک جاتے ہیں۔ وہ ہر بات کا عقلی جواز تلاش کرتے ہیں۔ اس سچی کہانی کو جانچنے
اور ماننے کے لئے عقل سے زیادہ توکل کی ضرورت ہے۔ عقل کے بھروسے پر
زندگی جینے والے اور توکل پا کر زندگی جینے والے الگ الگ ہوتے ہیں۔ عقل کے ترازو
پر ہر بات رکھنے والوں کے لئے اس تحریر میں کچھ نہیں ہے
کیونکہ یہ کوئی منطق اور جواز فراہم نہیں کرتی۔ بلکہ یقین محکم ہے
ایمان والوں کے لئے۔
تحریر:
محمودالحق
Jun 15, 2020
اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا
اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو
شکوہ کیا
دنیا سے گر رشتہ ٹوٹ جائے تو
شکوہ کیا
آستین میں چھپے ہاتھ کی آگہی
بھی بیزاری ہے
دوچار قدم چل کے لوٹ جائے تو
شکوہ کیا
جالے بنتی مکڑی کا ہے فریبِ
مکاں
قلبِ نور سے نظر عقل مٹ جائے
تو شکوہ کیا
شمع خود بھی ہے بجھتی پروانہ
بھی جلاتی
مہک گل سے خود لپٹ جائے تو
شکوہ کیا
دامنِ آرزو میں رہتی ہوا تو
گرد و غبار ہے
حسرتوں سے غمِ بادل چھٹ جائے
تو شکوہ کیا
بے بس دست و پا بے راہ مشکل
التجا
احسان سے گر مقامِ اَنا مٹ
جائے تو شکوہ کیا
تلاش میں ہے جن کی رزقِ اجرِ
حنا
جسم روح سے الگ الگ بٹ جائے تو
شکوہ کیا
ولی صوفی قلندر کیا نہیں ہیں
انساں
متاعِ دنیا راستے سے خود ہٹ
جائے تو شکوہ کیا
راستے جدا جدا پہنچے منزل ایک
مقام
راستہ ہی میں سارا سفر کٹ جائے
تو شکوہ کیا
آسان جن کو نظر آئیں منزلیں
دشوار گزار
قدم پڑتے ہی گر نہ پلٹ جائے تو
شکوہ کیا
بیتابیء قلب میں سماتی جسم و
جان جائے
تہہء عملِ جہاں سے جو سلوٹ
جائے تو شکوہ کیا
اب بھی ہے کوئی شکوہ ذاتِ منان
سے
غفلت شب میں نیند سے کروٹ جائے
تو شکوہ کیا
کلمہء تشکر میں گر ہو مقامِ
اولیٰ محمود
پہاڑ کیا چاہے زمین پھٹ جائے
تو شکوہ کیا
محمودالحق
Jun 3, 2020
راہِ ہدایت
پہلے انسانیت
سسک رہی تھی اب انسان بلک رہا ہے۔ ایک مذاق تھا جو سر چڑھ کر بولتا رہا۔ معاشرہ محبت سے عاری تو معاشرت میں سیاسی داد گیری ۔ جھوٹ اتنا
کہ دم نکل جائے مگر سچ زبان پر نہ آ
سکے۔شہرت کے متلاشی ، دولت کے بھوکے،عزت کے طلبگار صرف خواہشوں کے دم پر۔ نہ کردار
کے غازی اور نہ ہی عہد کے پکے۔پاؤں سر پر
رکھ کر بھاگنے سے پاؤں زمین سے تکبر سے اٹھنے تک کے مراحل میں عاجزی اور نہ ہی صبر
، شائستگی سے محروم آئینے جو حقیقت کیا دکھاتے جن کا عکس بھی دھندلا ۔
نظام کائنات میں
زرہ برابر بھی فرق نہیں روشنی کا پیچھا کرتے اندھیرے کے غالب آنے تک۔ پیغمبروں کو
جھٹلانے والی قومیں کبھی بجلی کی کڑک سے ہلاک ہوئیں تو کبھی آسمان سے برستی آگ سے۔کسی
پر پانی چڑھ دوڑا تو کوئی پانی میں خود جا کودا۔راہ ہدایت کو اتنا مقدس جان لیا کہ
کھوجنا تو دور کی بات کھولنے سے ہی ہاتھ کھینچ لیا۔ صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں جسے
سنایا جا سکے، جو عمل کا متقاضی ہے اسے ذاتی اختیار سمجھ کر فیصلہ صادر کر دیتے
ہیں۔
کسی نے شملہ
اونچا کر لیا تو کسی نے دستار کے پھیلاؤ بڑھا لئے۔اپنے راستے سیدھے نہ کئے ،
دوسروں کے سامنے گڑھے ڈھونڈنے میں توانائیاں صرف کرنے میں دن رات ایک کر دئیے۔
دوسروں کے نقائص سے اپنی نجات کا راستہ تلاش کرنے والےطبیب مسیحا ئی کے دعویدار زمانے کی ہمراہی میں خود ہی عالم
روزگار بن گئے۔
اخلاق و اطوار ،
کردار و گفتار کے بغیر ایسی کشتی کی مانند
ہے جو چپوؤں کے بغیر کھلے پانیوںمیں اپنی سمت کا تعین کرنے سے قاصر ہوتی ہے ، منزل
تک پہنچنا تو بہت دور بات ہے۔یقین کرنے کے لئے ہمیشہ معجزات کے طلبگار، ہدایت
یافتہ ہونے کے لئے آسمان سے فرشتے اترنے کے منتظر
۔
بچے کے ہاتھ میں
مغرب سے مشرق تک پہنچنے والےمعمولی سے
تحفہ کی دھوم اور دھاک کئی گھروں کے در ہلا کر رکھ دیتی ہے۔اپنا منہ لال کرنے کے
لئے اپنے ہاتھوں سے اپنے منہ کا ماتم کیا جاتا ہے۔قلب پر اترنے والے تحفے انمول ان کے لئے جنہیں خالص اور نایاب کی
قدردانی کا فن جو ہر شناسی حاصل ہوا۔جسے دیکھنے والے زیادہ ہوں وہاں دکھانے والے
اپنا اپنا مال بیش قیمت بنانے کے لئے بڑھ بڑھ کر قیمت لگاتے ہیں۔ ذرائع آمدن
بڑھانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگ جاتی ہےاورخرچ کے راستے روک لئے جاتے ہیں جو
معاشرے میں مسابقت اور حکم سے مطابقت رکھتے ہوں۔
زخم بھر جاتا ہے
، تکلیف جاتی رہتی ہے، تکمیل کا عمل کبھی نہیں رکتا۔چھوٹ جانے کا خوف دنیا میں بے
صبری اور ہیجان و بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔اچھے دنوں کی آس کے سامنے برے دنوں
کا خوف اتنا ہیبت ناک ہوتا ہے کہ عارضی
زندگی کے مقابلے میں دائمی زندگی کے انجن کو
پٹڑی سے اتار دیتا ہے۔ جس کے پیچھے اعمال
کی بے شمار بوگیاں منزل تک پہنچنے سے پہلے
تباہ حالی کا شکار ہو جاتی ہیں۔اندھوں کے لئے روشنی کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر
ہوتا ہے۔ قلب میں جن کے ہوس و حرص ، غرض و مفاد
کا زنگ بھرا ہو وہاں چھینٹوں سے داغ دھلنے زرا مشکل ہوتے ہیں۔فیصلے کی گھڑی
ہو یا قیامت کے قرب کی نشانیاں تیاری کے
بغیر امتحان میں بیٹھنے کے لئے مچلنا
کچلنے کے مترادف ہے۔
اوراق مقدس تبھی
ہوتے ہیں جب ان پر حروف مقدس لکھے ہوں۔ حروف وہی مقدس ہوتے ہیں جو اس کتاب کے ہوں
جس میں کسی قسم کاکوئی شک نہ ہو، جس کے حرف حرف پہ سچائی لکھی ہو اور ایمان والوں
کے لئے راہ ہدایت صرف وہی ہے۔
تحریر : محمودالحق
Apr 5, 2020
عمرانیات پر کرونا اثرات
تعمیرات کے شعبے کو کھولنے کا فیصلہ کرونا کے اثرات سے نپٹنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ غریب عوام کو روزگار کے حصول میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ کوئی بھی حکومتی اقدام اس وقت تک اچھے نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ پالیسی بنانے والے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کی بجائے قومی معیشت کو مستقل بنیادوں پر استوار نہیں کرتے۔ 2016 سے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کو برے طریقے سے سبوتاژ کیا گیا۔ بڑے چور تو عدالتوں سے ریلیف پا گئے۔ اور عام لوگ پیچھے بچ گئے جوگہیوں میں گھن کی طرح پس گئے۔ عجیب مارشلائی صورتحال ہے جب چاہا مال کا حساب مانگ لیا جب چاہا آنکھیں بند کر لی۔ دنیا کے کسی ملک میں 12/2 فیصد بینکوں میں شرح سود نہیں ہے ماسوائے پاکستان کے ۔ جو ملک مضبوط معیشت کے حامل ہیں وہاں سسٹم مضبوط ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف مافیا ہیں ۔ آٹا مافیا ،چینی مافیا ،پراپرٹی مافیا ،میڈیا مافیا ، ذخیرہ اندوز مافیا، ملاوٹ خور مافیا اور سیاستدان مافیا کے ساتھ ساتھ ہر طاقتور ادارہ بھی مافیا ہے اور پیچھے بچی صرف عوام جو اب کرونا کے زیر عتاب ہے۔ حکومت اس خوف سے حرام کو حلال ماننے پر آمادہ دیکھائی دیتی ہے کہ کہیں غریب عوام امیروں کی دوکانوں ، گھروں اور گوداموں پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔ سننے میں آتا ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بعض ریاستوں کے شہریوں نے اپنی حفاظت کے پیش نظر اسلحہ خریدنا شروع کر دیا ہے کہ کہیں کرونا کی وجہ سے بھوک سے تنگ عوام چوریاں اور ڈکیتیاں نہ شروع کر دیں۔ حالانکہ حکومت نے بڑے کاروباری اداروں اور عوام کے ریلیف کے لئے دو ہزار ارب ڈالر کی ایک خطیر رقم مختص کی ہے اور پاکستان میں صرف آٹھ ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی جو شائد قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف سے بطور قرض لی گئی ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا
گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا
Feb 26, 2020
Top 100 Math Blogs for Students and Teachers
اکتوبر 2018 میں پہلی
بار میں نمبرز کی دنیا سے روشناس ہوا۔
میرا علم سکول میں حساب کی کتاب تک تھا۔ آج میں ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا
ہوں کیونکہ Feedspot
کی طرف سے مجھے موصول ہونے والی ای میل میں
میرے بلاگ Math Magic
Mystery کو اپنی ویب پر صرف شامل
ہی نہیں کیا گیا بلکہ Top 100 Math Blogs کی فہرست
میں 97 ویں نمبرپر رکھا۔ جو کہ میرے جیسے ریاضی سے نا بلد انسان کے لئے باعث فخر ہے۔ در دستک کی طرح Math Magic Mystery بھی صرف اور صرف
عطائے رب العزت ہے ۔
Hi Rana,
My name is Anuj Agarwal, I'm the Founder of
Feedspot.
I would like to personally congratulate you as
your blog Math Magic Mystery has been selected by our panelist as one
of the Top 100 Math Blogs on the web.
I personally give you a high-five and want to
thank you for your contribution to this world. This is the most comprehensive
list of Top 100 Math Blogs on the internet and I'm honored to have
you as part of this!
Best,
Anuj
Subscribe to:
Posts (Atom)
