Aug 15, 2010

سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے

بات جتنی مختصر اور جامع ہو گی ۔ اختلاف کی اتنی ہی کم گنجائش رہے گی ۔زیادہ بولنے سے کبھی زبان پھسل جاتی ہے تو مضمون کی طوالت سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے کہ جزبات کی رو میں بہتے بہتے اعتراض کی زد میں جا پہنچیں ۔خود کو اجڑ و گنوار کہوں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ انداز بیان سے تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائے گا ۔ کہ تعلیم کا میدان کہاں تک سر چکے ۔جو اس سر درد کے مرض میں مبتلا رہے ہوں تو چوٹی سر کرنا محاورے میں استعمال اچھا لگتا ہے ۔
پہاڑوں سے بہتے بہتے میدانوں تک پھیلتے پانی جب آنکھوں سے آنسو بن برس جائیں ۔ تو خوشیاں دیکھنا تو درکنار سوچنا بھی بیکار ہو جاتا ہے ۔ قافلے بے سروسامانی کے نشان، سر پہ گھٹڑیاں بندھی زندگی بھر کی پونجی کے ساتھ ،سوال کرتی آنکھیں خاموش زبان سے شاعری کے مجموعہ کلام پر بھاری پتھر سے کاری ضرب لگاتی ہیں ۔
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی امن کی فاختائیں ۔ رحم کی صدائیں ۔درگزر کی ادائیں ۔محبت کے گیت ۔ کھیت کھلیان باغ دلکشا۔نہ دیکھوں پھر کبھی اجڑے دیار ۔ بچھڑے یار ۔ مدد کے طلبگار۔ نہیں ہوش کون ہے کس کا دلدار ۔ بس امید کی ایک آس ہے ۔ چہرے تصویر یاس ہے ۔لٹے پٹے قافلے ہیں ۔ آٹا دال چاول کے مہنگے لوٹتے گھاؤ ہیں ۔پچیس ہزار میں پچاس میل کی مسافت کا بار ہے ۔
ہزار ہزار دیگوں میں بٹتی مرغ بریانی ہے ۔ پھر بھی بھوکے اکثر بےیارومددگار ہیں ۔بے چارے تعلیم میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ علم سے نابلد اجڑ و گنوار ہیں ۔کلاس روم کےنام سے بھی تھےجو نہ آشنا آج سکولوں میں حاضری رجسٹر پر پسماندہ حال ہیں ۔ خواندگی کی شرح شرمندگی کی سطح پر۔ پہلے ہی سکولوں میں پناہ لی ہوتی ۔ توان پڑھ گنوار نہ رہتے۔ ہر الیکشن میں انگوٹھا لگانے سے انگوٹھا چھاپ نہ کہلائے ہوتے ۔
گھروں سے بے گھر مہاجر ہیں توسکولوں میں رہتے پناہی ۔ صفحہ ہستی سے مٹنے والے اپنے گھروں کو جو نہ واپس لوٹ سکیں ۔اسی زمین پر رہیں گے بے گھر ہاری کسان بن کے مہاجر یا پناہی ۔
ہر طرف لاشیں ہیں ۔ نہیں رہتی اب نئی خواہشیں ۔زندگی امن سے جی لیں یہی اب ہیں فرمائشیں ۔کون جینے دے گا ۔ پانی اترنے کی دیر ہے ۔ زندگی صرف انہی کی اندھیر ہے ۔ جنہیں پہلے جینا بیزار تھا اب وہی زندگی کے طلبگار ہیں ۔
ایک معافی پہ پھر وہی بنائیں گے نئی سرکار ۔ جو آج نظر آتے ہیں لاچار ۔ مدد کے لئے آقاؤں کا ہے انہیں انتظار ۔آج سیاست پر بات نہیں کرنا تھی پھر بھی ایک آدھ فقرے کے لئے معذرت ۔ کیونکہ وہی مسیحا ہیں ۔ بااختیار ہیں زور آور ہیں ۔ ان کی مدد کے بغیر تسلی و تسفی نہیں ۔ شکوہ انہی سے سب کرتے ہیں ۔ قوم کو ایک کرنے کا تہیہ اب وہ آپس میں مل بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ ووٹوں پر جو تقسیم کرتے تھے ۔
ہر لیڈر کی اپنی قوم ہے پنجابی پختون سندھی بلوچی۔ جو ان میں نہیں وہ متحد ہے ۔14 اگست ان سب کی آزادی کا دن ۔ جب سب اکٹھے جشن مناتے ہیں ۔ صرف عید کے چاند پر اتفاق نہیں کرتے ۔ تین دن تک اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں ۔
جب الگ الگ ہو چکے تو اب یکجہتی کی ضرورت آن پڑی ۔ اب قطرہ قطرہ دریا بننے میں دیر کر رہا ہے ۔دوسروں پر انحصار کی بجائے خود کے بازو کو ہی طاقت بنایا ہوتا ۔ استعمال کے بعد نہ انہیں بھلایا ہوتا ۔ تو متاثرین کوخالی پلاٹوں سے بھی بے سروسامانی کے کیمپ اٹھائے جانے کو نہ کہا جاتا ۔5 ہزار روپے من تک آٹا نہ بکتا ۔
اگر انہیں سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری نہ لکھوں تو پھر کیا لکھوں ۔ جانتا ہوں کہ سیاسی حالات پر لکھنا بوریت پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ اختلافی موضوعات کو جو پزیرائی حاصل ہے وہ کسی دوسرے موضوع کو نہیں ۔ خاص کر لسانی اور مذہبی ۔ یہ کسی مفروضہ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ۔بہت سی باتیں کچھ کھلی تو کچھ ڈھکی چھپی بیان کر چکا ۔ اب اگر بات یہیں ختم نہ کروں تو پھر اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ تجربات اتنے سنجیدہ ہیں کہ غیر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی ۔
در دستک >>

Aug 13, 2010

بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر

بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بحرحال بہتر ہوتی ہے ۔ روزانہ ہی ٹی وی پر ہمارے سیاستدان یہ راگ آلاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جمہوریت کی نہ تو صحیح ترجمانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اصل شکل دکھائی جاتی ہے ۔
جمہوریت سے مراد گلی محلوں اور گاؤں سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی پا کر سیاہ و سفید کے مالک ہو جانا مراد نہیں ۔سیاسی باپ کے بوڑھے ہونے سے پہلے نوجوان بیٹے کو سیاسی گدی نشینی کے لئے تیار کیا جانا بھی نہیں ۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر اسے کہا گیا ہے کہ جس میں معاشرے کے عام افراد بلا خوف وخطر اپنی آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہوں اور نمائندگی کے لئے وراثت کی بجائے قابلیت کا معیار اپنایا گیا ہو ۔
جمہوریت سے مراد ہے عوام کو اپنے میں سے نمائندگی کا حق ، آزادی رائے کا حق،کاروبار و جائیداد کے تحفظ کا حق،مذہبی آزادی کا حق،تحریر و تقریر کا حق،معاشی تحفظات کا حق،بنیادی تعلیم اور حفظان صحت کا حق،امارت و غربت سے قطع نظر مساوی بنیادوں پر قانون و انصاف کے حصول کا حق،معاشرتی نا انصافی اور سماجی غنڈہ گردی سے استحصال سے محفوظ رکھنے کا حق، ایک عام آدمی کے وہ تمام حقوق جو حکمرانوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے لیکر آزادی صحافت میں لپٹی بعض کالی بھیڑوں سے عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا حق بھی شامل ہیں ۔
جس جمہوریت کی آساس آئین پر ہو ۔وہی آئین معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور افراد کو حقوق فراہم کرتا ہے ۔مگر بد قسمتی تو دیکھئے آئین کی پاسداری سے صرف پارلیمان ہی اپنے لئے حقوق کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔
جن حکمرانوں پر عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہو اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی ۔وزیراعظم سیلاب فنڈ میں شرمناک حد تک عطیات کا اکٹھا ہونا اس بات کی دلالت ہے کہ عوام جمہوری بھائی بندوں کی ایمانداری پر شکوک کا شکار ہے ۔آخر کار جمہوری وزیراعظم کا میڈیا پر عوام سے مخاطب ہو کر یہ یقین دلانا کہ ایک ایک پائی ایمانداری سے سیلاب زدگان تک پہنچائی جائے گی ۔ اور اس کا حساب بھی دیا جائے گا ۔ ویب سائیٹ پہ جا کر چیک کیا جا سکے گا ۔
پاکستانی عوام نے مصیبت کی ہر گھڑی میں جمہوری حکومت ہو یا آمریت دل کھول کر امداد کی ہے ۔مگر آج وہ مایوس ہیں ان کے کردار و گفتار سے ۔جمہوریت کے یہ چمپئن پارٹی ٹکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔ اور جو اسمبلیوں میں نہیں پہنچے وہ بھی اتنے ہی داؤ پر لگا چکے ہیں ۔ اگر وہی لوگ اپنے الیکشن پر پولنگ کے روز دیگوں پر خرچ آنے والی رقم کا آدھا بھی سیلاب فنڈ میں دے دیتے تو حکمرانوں کو سبکی نہ ہوتی ۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر امداد کی بجائے عید قربان پر کھالیں اکٹھا کرنے والوں کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ شامیانے ہر شہر میں عوام سے کھلے دل سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مگر ان تمام سیاسی جماعتوں کے اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والوں سے قوم کو کیا توقع رکھنی چاہئے ۔ جو صرف قوم سے لوٹا پیسہ قوم پر لگانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔اگر صدر صاحب ہی مانچسٹر میں پچاس لاکھ کا اعلان کرنے کی بجائے اس دورہ پر سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے دورہ منسوخ کر دیتے اور یہی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دے دیتے تو آج وزیراعظم صاحب کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے گا ۔
عوام سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے ۔سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے ۔ بچ جانے والوں کے پاس اب صرف کھالوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا ۔جو ان کے کسی کام کی نہیں ۔ہماری حکومتوں کو جانوروں کی شکل میں صرف کھالیں چاہئے اور انسانوں کی شکل میں بکرے ۔جو صرف چھری دیکھانے سے میں میں کرنے لگیں ۔
جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔وہاں چند پڑھے لکھے اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق کامیابی کے زینہ پر جلد چڑھ جاتے ہیں ۔مجمع اکٹھا کرنے کے لئے تماشا سے بڑا مداری ہوتا ہے ۔کیونکہ تماشا دیکھا نہیں جاتا دیکھایا جاتا ہے ۔تماشا چاہے ماچس کی ڈبیا کا ہو ۔ مگر زبان سے منظر باندھنے والا اسے بڑھکا دیتا ہے ۔
برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے ۔مکمل سادگی اختیار کریں ۔عید کے اہتما م میں ہزاروں روپیہ خرچ کرکے امیروں کی تجوریاں بھرنے کی بجائے مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں ۔سیاسی اور سیاست کرنے والی مذہبی جماعتوں کو جانچنے کا سب کا اپنا پیمانہ ہے ۔ جن اداروں کا ماضی بے داغ ہے اور خدمت خلق میں جن کا نام کی بجائے کام بڑا ہے ۔ انہی کے سپرد اپنی امدادی امانت کریں ۔ جو پچھلی کارکردگی کے فوٹو سیشن سے بیوقوف بنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
وزیراعظم کا سیلاب میں پھنسے لوگوں کے درمیان جانا اچھا فعل ہے مگر ایک ایک فرد کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے تھیلا تھمانا شرمناک فعل ہے ۔ آخر میں تو صرف یہی بات رہ جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجڑے باغاں دے گالڑ پٹواری
در دستک >>

Aug 10, 2010

ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

مری کے پہاڑوں پر گنگناتی فلمی ہیروئین پانچ سات سہیلیوں کے درمیان موج مستی کا گیت آلاپ رہی ہوتی ۔ تو درختوں کی اوٹ سے چند اوباش نکل کر رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ جاتے ۔آپس کی بات تو تکار سے بڑھتے بڑھتے ہاتھ پکڑنے تک جا پہنچتی تو لڑکیوں کا ہاتھ جوتے کو ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتا ۔ اور چھترول شروع ہونے سے کبھی پہلے کبھی بعد میں اوباش گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے ۔
ایسے فلمی مناظر اکیسویں صدی میں ریلیز ہونے والی فلموں میں عکس بند نہیں کئے جاتے ۔کیونکہ اب عشقیہ داستانوں پر مبنی کہانیاں پزیرائی نہیں پاتیں ۔اس تابوت میں آخری کیل اسی کی دہائی میں مولا جٹ فلم میں دارو نے ٹھونک دیا تھا ۔جب ماکھا جٹ ناک پہ جوتے کا نشان لے کر آیا تھا ۔اور نوری نت نے دارو کو ذلت کے نشان کو مٹانے پر شاباشی دی تھی ۔ستر اسی کی دہائی میں ایسے حقیقی واقعات کے بھی چشم دید گواہ ہوں گے ۔جو سرراہ جوتا بازی کی کرشمہ سازی دیکھ چکے ہوں ۔گواہ تو شائد حکمران پارٹی کے قائد کو مخالف اتحاد کی طرف سے جوتے دیکھانے کے بھی ہوں ۔ جنہیں چمڑا مہنگا ہونے سے مراد لے لیا گیا ۔
غرض جوتا سازی کی صنعت ہو یا جوتا بازی ۔اس کے مختلف ادوار ہیں ۔اب اگر پولیس کے زیر استعمال چھتر کی بات کی جائے تو وہ ایسا ہے کہ جسے کبھی پہنا نہیں جا سکتا ۔پھر بھی اسے چھتر کہا جاتا ہے ۔شائد اس کے پڑنے کی آواز جوتے پڑنے سے ملتی جلتی ہے ۔
بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں جو روایات من و عن منتقل ہوئیں ۔ ان میں سر فہرست پولیس کا چھتر ہے ۔ دوسری طرف سیاسی طور پر جوتا بازی کبھی بھی اچھا شغل نہیں رہا ۔مگر گزشتہ چند سالوں میں اس صنعت کو خاصی شہرت و پزیرائی حاصل ہو چکی ہے ۔
اکثر دو مد مقابل ٹیموں کے درمیان ٹاس کے ذریعے سکہ اچھال کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پہلی باری کا حقدار ہے ۔لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر جوتا ایسا تاثر نہیں رکھتا ۔ کیونکہ وہ اچھل کر ہی فیصلہ دے دیتا ہے ۔
ایک بات تو طے ہے کہ روزمرہ استعمال میں رہنے والا مقبولیت کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ جوتے کی نوک پہ رکھنے کے محاورے سے جس نے تذلیل کی گہرائیوں کو چھوا۔ اب وہ ہواؤں میں اچھل اچھل کر خوشیوں میں پھولے نہیں سماتا ۔ بحرحال جوتا پڑنے سے اچھلنے کا درد جھیلنا زرا مشکل دیکھائی دیتا ہے ۔
اچھے نتائج کا نکلنا بعید از قیاس نہیں ۔ جوتا بازی سے دیکھنے والے ضرور سبق حاصل کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے میٹرک سائنس میں فسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔اتنی تفصیل تو دینا ضروری ہو گیا کہ کہیں ہمیں جوتا بازی کا شکار نہ سمجھ لیا جائے ۔ ایسا تجربہ زندگی میں دیکھنے سے زیادہ نہیں ۔گلے سے نکلنے والی ہائے ہائے سننے سے تو آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا تھا ۔
جب نویں جماعت کے آغاز میں نئے کمانڈر ان چیف انگلش کے ٹیچر نے چارج سنبھالا ۔ تو بچپن سے ہی کمزور یادداشت رکھنے والے اس رنگیلے کھیل کے زیر عتاب آئے ۔دونوں ٹانگوں کے نیچے سے دونوں کان پکڑنا بھاری بھر کم موٹوں کے لئے پہلے ہی کسی سزا سے کم نہیں تھا ۔اوپر سے دفعہ 12 لگنے سے سزا با مشقت بھی ہو جاتی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیچر باٹا کا 12 نمبر پہنتے تھے ۔
اب جب کہ جوتا سازی ایک منعفت بخش کاروبار کے بعد جوتا بازی قبولیت عام کی سند حاصل کرتی تلوار بنتی جارہی ہے ۔ جو تلوار جیسی دھار تو نہیں رکھتی مگر زخم اس سے بھی کہیں گہرا دیتی ہے ۔اور اس پر مرہم رکھنا ابھی وقت نے سیکھا نہیں ہے ۔
اگر ملکی سربراہان اور سیاسی قائدین پر یہ دفعہ عوامی مینڈیٹ سے نافذالعمل ہو گئی ۔ تو امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی یادداشت رکھنے والے ضرور امتحانات میں فسٹ کلاس حاصل کریں گے ۔ اور کمزور خلیفے اچھے اداروں کی رکنیت کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ قابل ہی نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ قابلیت کے لئے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ضروری ہیں ۔
یونیورسٹی میں پڑھنے والے نہر کنارے چلتے چلتے محبوبہ کو منا بنا کر ہوا میں اچھالنے کی خواہش کریں اور محبوبہ منا بننے پر اعتراض کی بجائے اچھالے جانے پر خوش ہو ۔ تو منے کو اپنا حق یوں اچھال کر استعمال کرنے والوں پر اعتراض ضرور ہو گا ۔
اب اعتراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔خوشیوں کے لمحات بچے ہی کتنے ہیں ۔ جو اعتراضات کی بھینٹ چڑھا دیں ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کہاں سب بچے ہیں ۔انھیں بھی تو خوراک اچھال اچھال کر ہی دی جارہی ہے ۔اور وہ منے کی طرح اپنی آغوش میں سما لیتے ہیں ۔ جن کے اپنے جگر گوشے منے خوفناک سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔اور وہ کچھ نہ کر سکے ۔
ان کے چاروں اطراف اس قدر پانی ہے کہ ان کے بہتے آنسو کسی کو دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔
در دستک >>

Aug 6, 2010

عوامی پریشانی بے حسی حکمرانی

چند ماہ پہلے جب میں اپنے مضمون " سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی " میں یہ سطور لکھ رہا تھا ۔۔
"کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ ہمارے ملک میں ایسا سب ہو گا ۔ پانی ایسے سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔ 
آج بارہ ملین عوام تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاری سے جس کسمپرسی کا شکار ہیں ۔ مستقبل کی پیش بندی تو کیا ۔ جانوں کے لالے پڑے ہیں انہیں ۔ کب اور کہاں سے اپنی زندگی کا آغاز کریں گے ۔ کوئی نہیں جانتا ۔گاؤں کے گاؤں دریا برد ہو چکے ۔ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ گھر اپنے مکینوں کو بسانے سے معزوری کا اظہار کر رہے ہیں ۔
آنکھوں میں جو آج کل سیاسی موتیا اترنا شروع ہوا ۔ تو اب نظر صرف دھندلائی نہیں بلکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا شروع ہو چکا ہے ۔ بینائی کی بحالی کے لئے قطرے گن گن کر آنکھوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔پانی جتنا بھی وافر کیوں نہ ہو تولا کبھی نہیں جاتا ۔ آنسوؤں کی برسات کی جھڑی بھی لگ جائے تو خشک ہونے تک انہیں پونچھا جاتا ہے ۔ آنسو گنے نہیں جاتے ۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ ایک طرف تین نیشنل اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دو بڑی پارٹیوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ۔اور ایک پہ نون کی حمایت سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ووٹوں کی گنتی کے باوجود پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما جو غصے میں بھری بیٹھی پریس کانفرنس کر رہی تھیں نے ہارنے والی نشست پر بد ترین دھاندلی کا الزام عائد کیا ۔اور وہاں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر دیا ۔ ایک نشست کا کھونا کسی آفت سے کیا کم نقصان ہے کیا ؟
دوسری طرف نواز شریف کولندن یاترا سے فوری واپسی کے لئے زرداری کو دیا گیا اپنا مشورہ اپنے پاس رکھنے کو کہا گیا ہے ۔اگر شریف برادران انسانوں کو گننے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ تو زرداری صاحب بھی اسی گنتی کے نتیجے میں یہاں تک پہنچے ہیں ۔اب جب دونوں بڑی پارٹیاں انسانوں کو گننے سے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں تو انہیں تولنے کے لئے انصاف کا ترازو ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے ۔اگرچہ اقتدار میں آنے کے کے لئے انسانوں کو تولنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ مگر بولنے سے پہلے تولنا بہت ضروری ہے اور لکھنے سے پہلے اشد ضروری ۔
بقول ان کے قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ؟ ان کے مستقبل کے لیڈرو حاکم کے تعارف کی نقاب کشائی ہو رہی ہے ۔لب کشائی کی اجازت نہیں ۔ اگر کسی نے قائدین کا وزن گھٹانے کی کوشش کی تو کشتوں کے پشتے لگائے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے قائدین گنے اور آزمائے ہوئے ہیں ۔ کوئی تلے ہوئے نہیں ہیں ۔ پڑھنے میں غلطی نہ کی جائے تولنے سے تلنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ پکوڑے تلنے سے نہیں ۔
آپ کو ہر حالت میں پیش کا استعمال کرنا ہو گا ۔ سیلاب کی وجہ سے کھڑے پانی سے جو دست و پیچش کی وبائی امراض پھوٹیں گی ۔اس میں ان قائدین کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ پرچیوں کی گنتی سے عوام جو انہیں دیتے ہیں ۔وہ انہی ہاتھوں سے لوٹا بنا کر انہیں لوٹا دیتے ہیں ۔ لاکھوں عوام دست و پیچش کا شکار ہوں گے ۔تو لوٹوں کی تعداد کم پڑنے کا اندیشہ ہے ۔
نورجہاں تو اب اس دنیا میں نہیں رہی ۔ ایسے میں اگر نصیبو لعل مان جائے ۔ تو اس سے پانچ سات ترانے ہی گوالئے جائیں جو خون کو گرما دیں ۔ترانوں میں یہی تو ایک خوبی ہے ۔ کہ وہ خون گرماتے ہیں ۔ شرم نہیں دلاتے ۔ اسی لئے قائدین جوق در جوق اپنے انتخابی جلسوں میں بھرپور بجاتے ہیں ۔
سیلاب میں گھرے اور متاثرہ عوام کو قطعا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چند روز تک ہوا میں چکر لگاتے جہاز ان پر پرچیاں نچھاور کریں گے ۔ پرچیاں لندن سے تو ضرور آئی ہوں گی مگر وہ خوراک کے کوپن نہیں بلکہ ہمارے موجودہ اور مستقبل کے حکمرانوں کے فوٹو سیشن کی پرچیاں ہوں گی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ سابقہ صوبہ سرحد کے عوام کو جس طرح پختونخواہ کے نام سے ریلیف دیا گیا ہے ۔جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی اگلے سیلاب تک پورا ہو جائے گا ۔ عوام خوش حکمران خوش ۔
یہ سمجھ لینا کافی نہیں ہو گا کہ یہ آفت صرف پاکستان پر آئی ہے ۔پوری امت اسلام اس سے متاثر ہو گی ۔ بیڈ روم کی طرح پر آسائش ہوائی سفر کرنے والے عرب شہزادے جنہوں نے ان ریگستانوں کو شکار کے شوق میں جس طرح اندھا دھند استعمال کیا ۔ انہیں اس کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ محلات کی صورت میں جو وہاں کے غریب عوام کی مدد کی گئی ہے ۔ ضائع ہونے کا خطرہ ہے ۔
قوم تو ویسے ہی جلد بازی کا شکار رہتی ہے ۔اورمسائل کا حل جادو کی چھڑی جیسا چاہتی ہے ۔حالانکہ ایک لیڈر کو پیدا ہونے میں ایک مارشل لاء درکار ہوتا ہے ۔ قوم سکتے میں نہ جائے ۔ اپنی جیب ڈھیلی کرے ۔ زلزلہ کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لئے ملنے والی امداد کب کی ہضم ہو چکی ۔ اب نیا دور ہے نئے اخراجات کا تخمینہ اکیلے لیڈر کی بجائے پورے خاندان اس قوم کے رحم و کرم پر ہیں ۔ دل کھول کر عطیات دیں اور ماضی کی طرح کہاں خرچ کیا ۔ کے سوال سے اجتناب برتیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ ایک ٹی وی کی سلائیڈ پر غیر سرکاری این جی اوز کو بھرپورعطیات دینے کی اپیل کی جارہی ہے ۔
پختونخواہ کے عوام پریشان نہ ہوں ۔ سرحد کے نام کے ان کے سروں پر منڈالتے برے اثرات ٹل چکے ہیں ۔
آج کل ایک آدھ ہفتہ میں نا انصافی کی دہائی میں از خود نوٹس کی گونج سنائی دے جاتی ہے ۔ جس معاشرے میں معصوم بچوں اور خواتین کے جسموں کے چھیتڑے ہواؤں میں بکھرنے لگیں ۔اور احتجاج کرتی عوام کے بازوؤں پر اور حکمرانوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں بندھی ہوں ۔اور اس معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل لاشوں کے گرنے کی سیاست پر رکھا جائے۔ تو پھر از خود نوٹس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے ۔
در دستک >>

اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں


اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں
شرمندہ ہیں اس لیے کہ ہم خطاکار ہیں

تجھے بھول جانے کے ہم جرم وار ہیں
دنیا کی محبت کے ہم سزا وار ہیں

خطاؤں کے لیے چاہتے تجھے مددگار ہیں
تجھے بھولنے کے بعد ہم تو غم خوار ہیں

دنیا کی چاہتیں اب ہمیں بیزار ہیں
شاہِ زمانہ کو ترستے ہم غمِ روزگار ہیں

تیرا در چھوٹنے سے ہم آہ و فگار ہیں
تیری نعمتوں کی ہو بارش ہم اشکبار ہیں

نہیں بھولیں گے ہم شجرِ آب دار ہیں
واسطہ تجھے محمدۖ کا ہم امت جہاندار ہیں

سورج یہ چاند ستارے تیرے راز دار ہیں
رہیں خش و خاک میں تو ہم بیکار ہیں

تیری چاہتوں سے نہیں ہم انکار ہیں
اپنی خزاںء زندگی کو امیدِ جشن بہار ہیں

اتنا دکھ جب ہوتے ہم بیروزگار ہیں
خوشی میں نہیں سوچتے کہ ہم پر انوار ہیں

عقلیں اَٹی ہماری گرد و غبار ہیں
قلب کھلے تو بھرے نورِ مینار ہیں

نہیں کٹتا نفس صرف روزہ دار ہیں
گر ہو مومن تو صوم کی تلوار ہیں

سُستیء ایمان ڈھونڈتے ایک رات کا دربار ہیں
ارادوں پہ اپنے ہم بے اختیار ہیں

شکوے تجھ سے ہمیں بار بار ہیں
جڑے جانے کو کھڑے قطار در قطار ہیں

عنایات کو بانٹنے کے نہیں روا دار ہیں
دکھوں میں ڈھونڈتے ہم غم گسار ہیں

ہم خطا کاروں کے آپ پروردگار ہیں
دعاؤں میں تیری رحمتیں درکار ہیں

.٭.


روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter