Feb 24, 2010

مُحَمَّدۖ کی نگری میں

مُحَمَّدۖ کی نگری میں فقیر صدا دیتا پھرے
ا ُٹھو مدینہ والو دیکھو امبر افشانی کرے

عبادت میں ہو حرا تو حفاظت کرے ثور
پہاڑوں سے میدانوں تک مقام ہرے بھرے

جو نازاں تھے اپنے علم و قلم کے تکبر سے
بلند کر دئیے آویزاں کوثر نے رتبے تیرےۖ


دعوت میں پیش امام شہر نبیۖ کو لاکھوں سلام
سچے عاشق رسولۖ مسلمانان پاک و ہند ہمارے

قریہ قریہ بستی بستی ہے جشن ولادت نبیۖ
مہکتے گلستانوں میں چند پتیاں پھول میرے

دعا کرو اے عاشق عبادت گزارو
رفاقت نبی سے متصل ہو مقام صفہ تمھارے

اس جہاں میں جینا تو جسم جان سے ہے
عالم ارواح میں مقام میرا نہ دور ٹھہرے

محبت مُحَمَّدۖ کی شان کیسے کروں بیان
خون جگرسے نہیں روح ایمان سے پروتا ہوں تارے

قلب ِ روشنی سے ہے میری قلم سیاہی
کاتب روح تعریف و تحسین نبیۖ ہمارے

اللہ کی شان محبوب خدا ہو میری روح جان
دیکھو آتش عشق میں کٹتے قلب کے نظارے

نور سے نور ہوا ہم کلام معراج مقام
محبوب سے ُاٹھا دئیے حجاب کے پردے سارے



روشن عطار / محمودالحق
در دستک >>

محبوب خدا سفارش کرنا

آپۖ کے نور کی ہے جلا محبوب خدا سفارش کرنا
میری آتش عشق کو بڑھکاۓ ردا کی ہوا
محبوب خدا سفارش کرنا
ہرعاشق کا سلام میرے وجود سے ہو کر گزرے
آپۖ کے در آتی ہر گلی کا ہو جاؤں خاک پا
محبوب خدا سفارش کرنا
عقیدت و محبت میں ہر جالی سے گزر جاؤں
قدموں میں مسل مسل کر ہو جاؤں ہوا
محبوب خدا سفارش کرنا
آپۖ کی رحمتوں کو بن کے ہوا سمیٹ لوں
گھر گھر دستک دوں ہو جاؤں صدا
محبوب خدا سفارش کرنا
مجھ بےعلم کے آنسوؤں کو گر مل جاۓ زباں
صحرا میں عقیدت کے پھول دوں کھلا
محبوب خدا سفارش کرنا
مدینہ شہر مجھے نظر آتا ہے گنبد
ہر ذرہ کو دیکھتا ہوں پڑھتے ہوے ثنا
محبوب خدا سفارش کرنا
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا
محبوب خدا سفارش کرنا
روح ایمان کرے بیان آپۖ ہی کی شان
برق شِتاب ابصار کی ہے ابتغا
محبوب خدا سفارش کرنا


برگ بار / محمودالحق
در دستک >>

Feb 21, 2010

زمینی قزاق یاتحسینی مذاق

تحریر : محمودالحق

آج تک آپ نے بحری قزاقوں کا ذکر سنا ہے مگر آج میں قزاقوں کی ایسی قسم سے پردہ اُٹھانے جا رہا ہوں جن کی خشکی پر پناہ گاہیں ہیں ۔ انہیں انگلش میں پائریٹس کہا جاتا ہے ۔ ایک عرصہ ہمیں یہ نام رکھنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی ۔ بھلے پیرٹس یعنی طوطا کیوں کہا جاتا ہے انہیں ۔لیکن ہماری انگریزی کی مشق شامت نے یہ مشکل آسان کردی ۔ ورنہ یہی سمجھتے رہے کہ طوطا بے وفا ہوتا ہے ۔ اور آنکھیں پھیر لیتا ہے ۔ اس لئے یہ لوگ بھی ایک آنکھ پر پٹی باندھ کر واردات پر نکلتے ہیں ۔ہماری غلط فہمی جلد دور ہو گئی ۔ اور کئی لوگ قزاق بنتے بنتے رہ گئے ۔
ایک ہمارے بہت مہربان
( کیونکہ ان کی میزبانی سے آج بھی کانوں سے دھواں نکلتا ہے ) کو طوطے رکھنے کا بہت شوق تھا ۔ اپنا لیکچر ریکارڈ کرکے طوطے کے پنجرے کے قریب رکھ دیتے تاکہ جلد وہ انسانوں کی طرح بولنا سیکھ جائے۔ مہینہ بھر کے ریاض کے بعد صحن میں اترتے ہی جناب طوطا بہادر کاں کاں تو کبھی چیں چیں کی گردان کرتے ۔ اگلا ماہ پھر بیچارہ قید تنہائی میں سروں کے ریاض میں گزارتا ۔ قصور طوطے کی قسم کا نکلا تو افریقن طوطا مہنگے داموں منگوایا گیا ۔ سال بھر اس پر محنت فرمائی گئی ۔ وہ بھی چند الفاظ سے اگے نہ بڑھ سکا ۔ طوطا تو آج بھی گھر میں موجود ہے۔ طوطا کی روح اب ان میں سما گئی ہے ۔ رٹے رٹائے الفاظ دہرانے کا کام اب موصوف خود کرتے ہیں ۔جی جناب بیگم جو کہتی ہیں وہی گفتگو فرماتے نظر آتے ہیں ۔ ٹائیں ٹائیں فش ۔اور یہی نہیں آنکھوں پر تو چشمہ ہے مگر چشم نظر طوطا ہو چکی ۔کام نکلنے پر آنکھیں پھیرنا تو چٹکی میں کر لیتے ہیں ۔دیکھنے میں تو بھولے بھالے طوطے نظر آتے ہیں ۔ چوری نہ کھلائیں تو انگلی بچا کر دکھائیں ۔بیگم کا اتنا خیال کرتے ہیں کہ ایک منسٹر صاحب کا پی اے بھی ان کے سامنے مات کھا جائے ۔پی اے تو وہ ہمیں کبھی نہیں بھولے گا جو علاقہ میں بڑے ٹورنامنٹ کے اختتام پر تقسیم انعامات کے مہمان خصوصی وزیر خزانہ نواز شریف کے ساتھ تشریف لائے ۔ کیا سوچ رہے ہیں کہ یہ کون ہیں ۔ جی ہاں میں انہی کی بات کر رہا ہوں ۔ یہ 1985 سے پہلے کی بات ہے جب وہ گورنر جیلانی کی حکومت میں تھے ۔ گورا چٹا کشمیری نوجوان منسٹر گھبرائیں نہیں لیڈر کے بارے میں ایسی جرآت کہاں کہ انہیں اس صف میں لاؤں ان کا ذکر پی اے کی وجہ سے آگیا ۔ مگر ہم سب ہی دوست پی اے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے ۔گاڑی سے اترنے سے لیکر گاڑی میں بٹھانے تک کی ذمہ داری کسی درباری کی طرح بخوبی نبھا رہا تھا ۔ ہمارا ایک محلے دار علاقہ کے کونسلر کا کچھ ایسا ہی پی اے تھا ۔ ایک فرق صاف ظاہر تھاکہ یہ صاحب ساتھ میں براجمان تھے ۔لیکن کونسلر کا پی اے گاڑی سے اتار کر پھر گاڑی ہی میں بیٹھ جاتا ۔منسٹر اور کونسلر دونوں کا ہی یہ اعزاز ہے کہ1985 میں لاہور میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بیک وقت جیتے ۔کار خاص ساتھ بٹھانے والا وزیر اعظم بھی بنا اور وہ پہلی اور آخری بار ہی جیتے ۔شائد اس میں ہماری لگائی پہلی اینٹ کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے ۔ہم ہر آنے والے امیدوار کو مایوس نہ کرتے اور بینر گھر کے سامنے لگانے کی ترغیب دیتے ۔ یوں بینروں کا گھمسان کا رن وہیں نظر آتا ۔ بڑی بڑی سفارش بھی ان بینروں کو نہ اتار سکی ۔ ہمارے بینر لٹکے رہ گئے اور جناب الیکشن جیت گئے ۔ لیکن پھر کبھی نہیں جیتے ۔ اب اگر مجھے کوئی کریڈٹ نہ دے تو سراسر جمہوریت شکنی ہو گی ۔
دل شکنی اتنی بار ہو چکی ہے کہ شکنیں چاہے بستر پہ ہوں یا پیشانی پہ تکلیف نہیں دیتیں ۔تکلیف تو اب وہ لوگ دیتے ہیں جو حقوق و فرائض کا ایسا لیکچر شروع کرتے ہیں کہ خاوند بیچارہ طوطا نامدار نظر آتا ہے ۔ بات بات میں قرآن و حدیث سے ساس سسر کی خدمت بہو کی ذمہ دار ی نہیں ،کی تبلیغ فرمائی جاتی ہے ۔ اور دوسری طرف خوشخبری سنانے میں بیتابی کہ خاوند نامدار کی تنخواہ سے کئی سالوں میں ایک بڑی رقم توڑی گئی تاکہ ولائت میں رہائش پزیرموصوفہ اپنے والدین سے شرف ملاقات حاصل کر پائیں ۔
ملاقات کے لئے آنے والوں کا تانتا تو ہمارے گھر بھی لگا رہتا ۔ اکثر محلے دار سوچتے آئندہ امید واربننے کی تیاری میں ہے ۔گھر آنے والے مہمان دوست اکثر ٹھنڈا مشروب نوش فرماتے ۔ لیکن اچانک ہی وہ چائے کی فرمائش کرنے لگے ۔ ہم نے سکھ کا سانس لیا کہ خرچہ بچا ۔ جب بھیا جی ( جو بوتل ، سگریٹ و پان کا کھوکھہ چلاتے تھے ) میرا مہینہ بھر کا بل لائے تو آنکھیں چندھیا گئیں ۔اتنی بوتلیں تو میں سال میں بھی نہیں پیتا ۔ آخر کون پی گیا ۔ نام تو نہیں لکھا تھا ۔ موٹر سائیکل کے نمبر درج تھے ۔ سبھی میرے دوستوں کے ۔ظلم کی انتہا ساتھ میں سگریٹ کے پیکٹ بھی ہر بار وصول کئے جاتے ۔پوچھا کہ بھیا جی میں نے کب کہا میں الیکشن لڑ رہا ہوں کھلا کھاتہ چلاؤ ۔کہنے لگا وہ آپ کا نام لیتے تو میں انکار نہیں کر سکتا کہ آپ ناراض نہ ہوں ۔کریڈٹ اتنا اچھا تھا میرا کہ پہلے دوستوں نے آغاز کیا پھر بھیا جی دوستوں کو روک روک کر اپنی بیکری بڑہاتے میرے کھاتے سے ۔
دوکان پر بوتل پینے کا ایک فائدہ تو ہے کہ گرمی زیادہ ہو تو پوری بوتل پینے کو ملتی ہے ۔ ستیاناس ہو نئے نئے گلاس منی سکرٹ کی مانند بنانے والوں کا ۔ ایک بوتل کے چھ گلاس بنتے ہیں ۔ منہ میں ڈالتے ہی پہلے گھونٹ بھاپ بن جاتے ہے ۔اور میزبان کو سانپ سونگھ جاتے ہیں ۔
چلیں آپ کو ایک گھر کی سیر کرواتے ہیں ۔ ایک صاحب اپنے داماد کے ساتھ عزیزوں کے گھر جلوہ افروز ہیں ۔ گلاس میں پیپسی کیک مہینہ بھر فریزر میں رہنے سے کاٹنے کٹنے سے معزور ہو چکا تھا ۔چھری کیک پر آتے ہی ہنستی ہنستی دہری ہو جاتی ۔دو تین بار کی کوشش سے چھری چلانے والے کی بھی ہنسی نکل گئی ۔ اب کی بار سیب پر دھار آزمانے کا فیصلہ ہوا ۔کاٹھے سیب نے کٹنے پر جو ناگواری کا اظہار کیا ۔ تو یہ بات سمجھ آئی کہ کاٹھے انگریز کا لفظ ایسی ہی آوازوں کے نکلنے سے ایجاد ہوا ہے ۔ میزبان نے فوری طور پر ملازم لائن حاضر کیا کہ کھانے والے سیب لائے جائیں ۔ تو جناب اب تک ہم کرکٹ کھیلنے والے سیب سے کھیل رہے تھے ۔ شرارتی مہمان سیب سے کب کرکٹ کھیلی جاتی ہے ۔
جو نہ کھایا جائے وہ مربہ کے کام آتا ہے ۔ اس پر بھی پھبتی کسنے سے باز نہیں آتے یار لوگ ۔اب اگر ایسے سیبوں کا مربہ گھوڑے کھا لیں تو کیا مضائقہ ۔ جب گھاس ڈالنے والے زیادہ اور کھانے والے گھوڑے کم ہوں تو پھر معیار اونچا نہیں ہو گا تو کیا ہو گا ۔ کاٹھے سیب کھا کھا کر کاٹھی اتر گئی پیٹھ پر کاٹھے انگریز رہ گئے ۔
یقین نہیں تو ابھی ٹی وی آن کریں ۔ اگر آن لائن کوئی عالم ہو تو بند کر دیں ۔ کیونکہ عید میں ابھی کئی ماہ ہیں ۔ان کی لڑائی کا مزا تو عید پر ہی آئے گا ۔ میرے مطابق تو کوئی بھی گیارہویں گھنٹے کے بعد دارالحکومتی ٹاک نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر استاد سلامت علی خان اور استاد امانت علی خان زندہ ہوتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی ۔قوم کی بجائے وہ خود ہی ریاض کرکرکے پکے سر وں سے ان کچے سروں کی تلافی کر دیتے ۔تلافی تو دراصل نقصان کی ہونی چاہئے تھی ۔ جو بوریاں بھر بھر آٹا سے سوجی میدہ نکال کر پھیکی چینی کی چائے جیسی روٹی کر دی ۔اگر آپ کا نقصان پورا ہو جاتا ہے یعنی روٹی کا وزن پورا ہو گا تو آپ کاکھویا وزن پورا ہو گا ۔
اگر بجلی کی بندش سے زندگی بھر کھایا کھویا پسینہ سے بہہ جائے تو پرانی فوٹو نئے فریم میں لگوا لیں ۔ تاکہ سند رہے کبھی آتش جوان تھا ۔اگر نیا گھر بنائیں تو آتش دان ضرو رکھیں ۔آگ بھڑکانے کی فکر نہ کریں ۔ اخبار لگوا لیں ۔بیگم کی ہر بات پر جوابی حملہ کریں ۔ سردیوں میں گرم رہے گا ۔ گھر میں زیادہ جگہ نہ ہو تو گملے میں پھول کی بجائے پنیری لگائیں پودینہ کی۔ گل قند کسی کام کی نہیں ۔چٹنی سے کم از کم دال چاول کا خرچہ بچے گا ۔
بچے زیادہ ہوں تو فکر والی کوئی بات نہیں ۔ روٹی اکثر کم پڑتی ہے جہاں ہاتھ زیادہ ہوں ۔مگرہاتھ دکھا کر ہی بہت سے کام نکل جائیں گے ۔اگر مجھے وہ مل جائے جس نے میرا ہاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ سفر کی لکیر ہی نہیں ہے ۔ اس کی ناک کی لکیریں نکلوا دوں ۔ آج تک سفر سے جان نہیں چھوٹی ۔ کل کلاں کو پاک نیٹ سے چلا جاؤں تو کون کون کہے گا کہ جان چھوٹی پڑھنے سے ۔کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب صرف جاوید میاں داد پر صادق آتا ہے ۔آپ لوگ نہ غلطی کرنا ۔چھکا زندگی میں ایک بار ہی لگتا ہے ۔ کون جانے کب لگ جائے ۔اور اگر نہ لگ سکے تو بال ضائع مت کریں سنگل لیتے جائیں ۔
در دستک >>

تھوڑی سی لفٹ کرا دے

تحریر : محمودالحق

چھوڑو نا یار۔۔۔ آجکل ہمیں معاش کی فکر ہلنے نہیں دیتی۔۔۔ کون سے نظریات اور کہاں کے نظریات۔۔۔ میرے بلاگ پر جناب نعیم صاحب نے یہ تبصرہ فرمایا ہے ۔ لکھنے کا خیال تو تھوڑی سی لفٹ کرا دے سے متعلق تھا ۔ مگر سوچا لگے ہاتھوں اس تبصرہ پر بھی اظہار خیال ہو جائے ۔سنجیدہ موضوع پر لکھا جائے تو پڑھنے والے تعداد میں انتہائی کم ہوتے ہیں ۔یعنی سینکڑوں کی بجائے دہائیوں میں ۔ لیکن ٹریفک بڑھانے کے لئے میرا قطعا کسی فلمی یا غیر فلمی گانے کے بارے میں لکھنے کا موڈ نہیں ہے ۔ اور نہ ہی عدنان سمیع کا ڈائٹنگ پروگرام یہاں بیان کرنا ہے ۔کیونکہ میں ہمیشہ سے ہی موٹا کرنے والی خوراک کا دیوانہ رہا ہوں ۔اس لئے موٹاپا کم کرنے کی ترکیب بیان کی جسارت نہیں کر سکتا ۔ جو کام خود نہ کیا ہو دوسروں کے لئے کیوں مولانا فصیحت ہو جاؤں ۔میرا مزاج معتدل ہے ۔ شوکت علی کے گانے ہوں یا ترانے سننے میں ہی گردش خون بڑھا دیتے ہیں اس لئے ان سے بھی ہمیشہ آنکھ بچا کر نکل جاتے ۔ عطا اللہ عیسی خیلوی کولڑکپن میں جنازہ نکالتے سنا تو
بلڈ پریشر کم ہو گیا ۔ اب سننے کی ہمت نہیں کمزوری بڑھ چکی ہے ۔ چکر آ جاتے ہیں ۔ صحت مزاج پرسی کے گانوں سے ہی تسکین پاتی ہے اب تو ۔ خوشی ہوتی ہے جب کوئی ہمارا حال پوچھتا ہے ۔ بیماری سے اظہار نفرت کرتا ہے اور ہمیں ساتھ دینے کا حوصلہ باندھتا ہے ۔کہ چلیں اسی بہانے ہماری ہمدرد فوج میں نئے سپاہیوں کا اضافہ ہوتا ہے ۔جیسے میری تحاریر پر داد دینے والے مختصر الفاظ کے ساتھ حوصلہ دیتے ہیں۔ جیسے بہت اچھے ، جاری رکھو، ویری نائس ، گڈ شئیرنگ وغیرہ ۔ مگر سبھی تو سپاہی نہیں ہوتے۔ تفصیل سے روشنی ڈال کر بعض پہلی صفوں میں اعلی عہدوں کے تغمہ بھی سجا لیتے ہیں ۔ اورکچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیماری کے متعلق ایسے انکشافات کرتے ہیں کہ سوتے میں آنکھ کھل جاتی ڈراؤنے خواب سے ۔مگر ان سب تفصیلات میں لفٹ کا ذکر تو کہیں بھی نہیں مل رہا ۔ ابھی تک تو صرف صفت ہی بیان کی جارہی ہے ۔ جو ہمیشہ انسان کی سرشت میں پائی جاتی ہے ۔بات تو شروع ہوئی تھی کہ ہر انسان کو روزی کے لالے پڑے ہیں ۔ پھر نظریات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔ہماری زندگی میں عملی لحاظ سے اس کا کیا عمل دخل ہے ۔ اگر میں یہ کہوں کہ جناب روزی کے لالے پڑے ہیں تو لالوں ( لالہ کی جمع یعنی بھائی ) سے لفٹ کی بجائے کیوں نہ لاالہ الااللہ سے ہی لفٹ کا قصد کیا جائے ۔ ہمارے مشورے بھی اب تو مال مفت دل بے رحم کی طرح محسوس ہوتے ہیں ۔ کہ جناب باتوں سے پیٹ نہیں بھرتے ۔ جان کے لالے پڑے ہیں ۔ لالہ سے مدد نہ ملی تو زندگی تہہ و بالا ہوتی نظر آ رہی ہے ۔اپنا بلاگ بنا کر بیٹھے ہیں در دستک ۔ چھتیں بغیر بالے کے ہیں ۔ محنت سے ہاتھوں میں چھالے ہیں ۔ گھر کے اندر اندھیرے تو باہر اجالے ہیں ۔دستک دیں تو کہاں ۔ دیواروں پر ۔صرف جھانکتے ہیں لوگ کبھی چلمن سے تو کبھی چوباروں سے۔ پریشانیاں اتنی ہیں کہ زندگی ایک کم ہے۔ کیونکہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔ جب ہر خواہش پہ دم نکلے تو ایک زندگی کے دم گن لیں ۔ اب تو حالت یہ ہے ہزاروں زندگیاں بھی کم نکلیں ۔ہم نے ہزاروں میں جینے کی بجائے ایک زندگی سے کام چلانے کی کوشش کی ۔ کوشش تو ہم نے یہ بھی کی تھی کہ گورنمنٹ کالج میں ایم اے تاریخ میں جب داخلہ لیا تو کلاس میں مجھے بھی کوئی لفٹ کرا دے ۔ آپ پھر غلط رخ دیکھ رہے ہیں ۔ میرا مطلب ہے کہ کلاس کے سبھی لڑکے لڑکیاں جب کسی اسائنمنٹ کو اکٹھے بیٹھ کر ڈسکس کرتے تو ہمیں اپنی طرف آتا دیکھ کر خاموشی چھا جاتی ۔اور ہم اپنا سا منہ لے کر کسی دوسری سمت چل پڑتے ۔ جہاں سے جو ملتا پڑھ لیتے اور پہلی پوزیشن سے جلا کر رکھ دیتے صرف کلاس ٹیسٹ میں ۔تقریبا چار ماہ بعد اقلیتی نشست سے جان چھوٹی ۔ لفٹ نہ ملنے کی بابت دریافت کیا کیونکہ چار ماہ اقلیت کا کردار نبھایا تھا ۔ فرمایا گیا جناب کا کردار ہی ایسا تھا ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ہمارا گھر محلے میں چھڑوں (کنواروں ) کا گھر مشہور تھا ۔ کزنز اور محلے کے سبھی چھڑے وہیں ڈیرہ جماتے تھے ۔مگر جناب ہم تو ہمیشہ سے آنکھ نیچے رکھتے محلے میں ۔ تو کلاس میں کیسے اُٹھا سکتے تھے پھر یہ ناروا سلوک کیوں ہوا ۔اب اگرداخلہ لینے کے چند روز بعد ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے باہر آٹھ دس لڑکے دو مخالف پارٹی کے لڑکوں کوگھونسوں اور لاتوں سے پیٹیں گے تو کیا ہم خاموش تماشائی بنے تماشا دیکھیں گے ۔ نہیں نہ ! یاد تو ہو گا آپ کو کھڑکی پر حملہ اور لائن توڑنے والے شدید ناپسند تھے ۔ سو کود پڑے بیچ میں اور دونوں کو بچا کر اپنا فرض ادا کیا ۔ تو کیا برا کیا ۔ نیکی کا یہ صلہ ملا ۔پوری کلاس نے اقلیتی بنچوں پر بٹھا کر رکھا ۔کہ کہیں اس کی وجہ سے کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں ۔ لیکن مصیبت تو میرے گلے پڑی۔ جب مخالف محاذ کی طلبا تنظیم نے دعوت شمولیت دے دی ۔ ہم کرایہ کے --- تھوڑے تھے ۔ چمچہ گیری سے جان چھڑاتے چھڑاتے اب داداگیری کو پلے باندھ لیں ۔ پلہ تو ہم کب کا جھاڑ چکے تھے ۔ ابا جی کی پانچ مربع زرعی زمین کے ٹھیکیدار فصل کے اجڑنے پر معافی مانگ کر پلہ جھاڑچکے اور ہم اخراجات و ضروریات زندگی سے ۔امیروں کے بیٹے کلاس میں ڈالہ (بوتلوں کے )کھلواتے ۔ اور ہم اکثر ہی حلیم کی ریڑھی پر پائے جاتے ۔ ایسے موقع پر خیال آتا کہیں سے تھوڑی سی لفٹ ہی مل جائے ۔ دعا سنی گئی ۔ اور پانچ بڑے لالوں (بھائیوں) نے امریکہ سےماہانہ مدد کا بل پاس کیا کہ کہیں تنگیء داماں میں بیرون ملک کا قصد سفر نہ باندھ لے ۔ بوڑھے اور بیمار والدین کی بیماریوں کو شکست دئے بنا تو اپنا فوجی اڈا نہیں چھوڑنا تھا ۔ بل منظور ہوا تو دو سو ڈالر کا پہلا چیک امریکن ایکسپریس سے کیش کروایا تو 4200 روپیہ ہاتھ لگا ۔ اس وقت ڈالر 21 روپے کا تھا ۔ سترھویں گریڈ کی بنیادی تنخواہ 2200 روپے تھی ۔ اتنی جلدی ایسی لفٹ کہ انیسویں گریڈکی تنخواہ گھر بیٹھے ملنے لگے تو بھاٹی کی سلطان حلیم چھوڑ لکشمی چوک سے مرغ کڑاہی کا دور چلنے لگا ۔ابھی صرف تین چیک کو تین ماہ ہی کھا پائے تھے کہ چوتھا چیک مزاج ،سوچ ،تربیت اور اصولوں پر بوجھ بن گیا ۔سن رکھا تھا اللہ تبارک تعالی کو صرف اوپر والا ہاتھ پسند ہے یعنی دینے والا مدد کرنے والا ہاتھ ۔بس پھر کیا تھا آئی روزی کو لات مار دی ۔ ایک لمبا چوڑا خط لکھ دیا ۔ ہم اپنا مقصد پورا کریں گے ۔ والدین کی چھاؤنی نہیں چھوڑیں گے۔ مگر ہمیں مدد نہیں چاہیئے ۔ جو والدین کے پاس ہے میری ضرورتوں کے لئے کافی ہے ۔اور چیک کا سلسلہ رک گیا ۔سنا تھا برا وقت اکیلا نہیں آتا ۔ اب اگر ٹھیکیدار اچھا ملا تو ٹیوب ویل کا بور بیٹھ گیا اور پانی کی کمی سے آمدن کا سلسلہ رک گیا ۔ دو سال بعد مجھے ملازمت ملی وہ بھی 65 میل دور دوسرے شہر میں ۔ روزانہ آتا جاتا ۔ تنخواہ جو مجھے ملتی 2400 روپے ماہوار تھی ۔ اسی سال میری شادی ہوئی اور ولیمہ کےسادہ اخراجات پھر بیرونی امداد سے پورے ہوئے ۔ لیکن زندگی میں لالوں کی بجائے لاالہ الااللہ پر ایمان کو پختہ رکھا ۔وقت گزرتا رہا ۔پائی پائی جوڑ کرکاروبار شروع کیا ۔ والد صاحب کی بیس سال پرانی کار کی بجائے سوزوکی ایف ایکس پھر شیراڈ اور کشکول توڑنے کے دس سال بعد میرے پاس پجارو گاڑی تھی ۔ اکثر لوگ خیال کرتے کہ پھر کوئی بل منظور ہوا ہے مدد کا۔ مگر یہ پیکج میرے بوڑھے اور بیمار والدین کی دعاؤں کا تھا ۔
در دستک >>

Feb 19, 2010

کنارے پہ لہروں سے اٹھکھیلیاں تو ہیں بہت آساں

کنارے پہ لہروں سے اٹھکھیلیاں تو ہیں بہت آساں
طوفانوں میں گھری کَشتئ نُوح جیسی کم ہیں داستاں

برس جائے تو سوغات تڑپ جائے تو ہے طوفاں
یہ تو سب اس کی جلوہ گری کے ہیں نشاں

سمجھنے والوں کے لیےہے کن فیکوں عیاں
بند در خرد واسطے بہتا برستا ھوا جہاں

ارض و سماں کے ہر رنگ میں ہے وہ پنہاں
بے رنگ نور مجسم پھر بھی متکبر ہے حضرت انساں

نہ غم نہ دنگ نہ ملال ہے نہ پشیماں
ایک قطرہ ہی سے تو ہے مکمل سب جہاں

بدعت عمل سے جن کی مستی جاوداں
ایسی قوموں کا کبھی کوئی پاتا نہیں نشاں

مٹ گئے محلات جبروت کے دربار شاہاں
آباد ہیں آج بھی کاشانہء فقیہاں

چاہنے سے چاہے جانے کی منزل نہیں آساں
خوشہ تقدیر کے مراد دانہ میں چھپا اک جہاں




موسل بار / محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter