Dec 28, 2011

پیار سے ڈر لگتا ہے

سننے میں اچھا لگتا ہے یا شائد کسی کو برا لگتا ہے ۔ معصومیت بھرا لفظ ہے پھر اس سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ ڈھو نڈنے پیار کو یہاں آ گئے ۔ الفاظ کڑوی گولی کی طرح مفہوم مسیحائی میں سما گئے ۔
بیماری پنپتی جزبات میں گھائل روح تمازت سے ہے ۔ کھلی آنکھوں سے نظر میں سمائے تو بند آنکھوں سے دل میں اتر جائے ۔ پھر ڈرنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر سمجھنا یہ ہے تو ایک جملے کو اتنی پزیرائی کیوں ۔ تپھڑ سے ڈر نہیں لگتا پیار سے لگتا ہے ۔ تپھڑ سے آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو پیار سے عقل پہ پردہ ۔
نفرت آگ کی حدت ہے جو جلا نہ پائے تو پھگلا ضرور دیتی ہے ۔ مگر پیار ڈوری کی مانند دوسِروں کو باہم باندھ دیتا ہے ۔
ایک ایسی روشنی جو آفتاب کی مہتاب پر پڑیں تو چاہے پہلی کا چاند بنا دیں یا چودھویں رات کی چاندنی ۔ مہتاب کرنوں کی محبت سے محروم ایک پل کے لئے بھی نہیں رہتا ۔
مگر دل ایسی زمین ہے جو حالات و موسمی اثرات کے زیر اثر سچی روشنی کی نعمت سے بھی کبھی کبھار محروم رہ جاتا ہے ۔ نفرت ، ہوس و حرص کے بادل تہہ آب سے جزبات کی بلندی کو چھو کر برس جاتے ہیں ۔ آسمان سے برسیں تو گرد و غبار کی کثافت چھٹ جاتی ہیں ۔ آنکھوں سے برس کر دل کے غبار کو نکال باہر کرتی ہیں ۔
ان باتوں سے تو پیار سے ڈر کا تعلق واضح نہیں ہوتا ۔کیا ایسا سوچتے ہیں ہم ۔
زمین کی محبت میں گرفتاری کا خوف کبھی پاس سے بھی نہیں گزرتا ۔ مگر یہی زمین زلزلہ ، سونامی ، ہریکین سے اپنا وجود سمجھائے تو خوف میں جکڑے جاتے ہیں ۔ ہماری سوچ ، ہماری زندگی حالات کے رحم و کرم پر بند بادبان کی کشتی جیسی ہے جو ہوا کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔
جو زندگی سے پیار کرتے ہیں وہ فنا ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ مگر فنائی صفت پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ دن رات ہوس و حرص کی روشنی سمیٹتے ہیں ۔ جو پیدا اس پانی سے ہوتی ہے جس کی قدر نخلستان میں بھٹکے مسافر سے زیادہ کس کو ہو گی ۔
اللہ تبارک تعالی کی نعمتیں ہزارہا ہیں ۔ انسان گنتا وہی ہے جو مادیت پر ہوں ۔ بدن میں حرارت 98.6 سینٹی گریڈ تک کسی شمار میں نہیں ۔ حلق کے نوالے گنتی میں ہیں مگر سانس کی آمدورفت صرف علامت ہے ۔ تیز رفتاری میں قابل توجہ ہوتی ہے ۔
محبت کی تاریخ کو افکار کے آئنے میں تلاش کریں تو عکس لگن سے ملن ، قربت سے محبت تک بنتا ہے ۔ اگر نظریات سے کھوج کریں تو شکوہ سے شکایت ، حقیقت میں روایت کا عکس بنتا ہے ۔ حال کی جوانی کو ماضی کے بچپن سے کشیدہ نہیں کیا جاتا ۔ محبت کو نفرت سے رنجیدہ نہیں کیا جاتا ۔ خوشی کو غم سے بینا و دیدہ نہیں کیا جاتا ۔ اوصاف کو وصف سے حمیدہ نہیں کیا جاتا ۔ جسے بھول جانے کا خوف ہو وہ عشق نہیں جسے سنبھال نہ سکو وہ بھی عشق نہیں ۔ جو خود میں سمو لے ۔ جو خود کو کھو دے وہ عشق ہے ۔
جو  فریاد سے نہ ہو اعتماد سے ہو ۔ارمان سے نہ ہو ایمان سے ہو ۔ طلب سے نہ ہو قلب سے ہو ۔ چھپ کر نہ ہو مگر چپ سے ہو ۔ انگاروں جیسا نہ ہو مگر ستاروں جیسا ہو ۔
ڈھونڈو ایسی محبت کو جو روٹھتی نہیں ۔ جس کی چاہ سے چاشنی نہیں جو عقیدت کے جنون سے لبریز ہے ۔ جو افتراء سے نہیں اقراء سے ہے ۔ جو زنگار سے نہیں ابرار سے ہے ۔ جو اسرار سے نہیں اقرار سے ہے ۔ جو عبد سے نہیں عابد سے ہے ۔ جو ابد سے نہیں احد سے ہے ۔ واحد کی محبت زاہد کا مقام ہے ۔ بیان میں جو نہ آئے وہی انعام ہے ۔


 تحریر !  محمودالحق
در دستک >>

Nov 19, 2011

عشق سے عشق تک

اونچی آواز میں دعا مانگوں یا اللہ مجھے محبت عطا کر تو ارد گرد نمازی تجسس بھری نگاہوں سے گھورے گے ضرور ۔ بد بخت مسجد میں بھی نفسانی خواہشیں لپیٹ لایا ہے ۔ گھر میں لبوں پہ یہی دعا گنگنائے تو رات کا کھانا خراب طبیعت کے بہانے میں رہ جائے ۔
جو رہتا ہے تو رہ جائے جو بگڑے سو بگڑے مگر دل کی بات کہنے سے نہ کوئی روک پائے ۔ ایک محبت کی کمی نے زندگی بے رنگ کر دی ۔ خواہشیں انگڑائی لینا بھول گئیں ۔ گناہ توبہ کی کسوٹی سے پرکھنے لگے ۔ نیکیاں آرزؤں کی سولی پر لٹک کر جھولنے لگیں ۔ ارمان گھٹ گھٹ مرنے لگیں ۔ لطیف سانس اکھڑ اکھڑ کر حلق میں اٹکنے لگے تو قلب رازِ محبت کے بار سے بیٹھنے لگے ۔ خشک ہونٹ نامراد ناکام عاشق کی طرح اجڑنے کا منظر پیش کرنے لگیں ۔ قدم آگےبڑھنے سے پہلے دل سے اجازت مانگیں جو دھڑکنوں کی گنتی خود یاد کرنے میں دھک دھک کر نے میں مصروف عمل ہو تو بے چاری عقل جو مغز کی ماری ہو سوچ کے کونے کھدرے سے نکال نکال کر قصیدے قرینے سے پلکوں پر بٹھا کر آداب بجا لاتی رہے ۔ بن پنکھ کے کہیں اُڑنے کے لئے پر تولتی ہو تو خون آشام کے پروردہ ہاتھوں پہ رنگ حنا لئے بہلانے پھسلانے کو آسمانوں می‫‫ں اُڑا اُڑا چہرے کی رنگت شفق سےفق ہونے لگے ۔ دلاسے ہمت باندھتے کم جکڑمحبت میں مذید گانٹھیں لگانے میں پیش پیش زیادہ ۔
عشق سے عشق تک پہنچنے کے تمام مراحل خود سے طے ہونے لگیں ۔ جنون محبت کا ، ارادے قربت کے ، چاہت پانے کی ، خوشی لذت کی ، انتظار آنے کا مگر جانے کا غم بچپن کے یاد کئے پہاڑےکےسبق کی طرح دو سے دو چار خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
تنہا ایک خود ہے پہاڑے دو سے سولہ تک یاد رکھتا ہے ۔ اکیلے کا مول الگ ہے دو کا تول الگ سے ۔
محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں ۔
جنہیں محبت کا جنوں ہے انہیں خود کی تلاش ہے ۔ پانے کی چاہت کمزور ہے جیتنے کی لگن زورآور ۔
انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے ۔
محبت کی داستان سچی ہو تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔ جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیا ۔ کھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا ۔
آغاز محبت میں شدت ایمان کی صورت اور انجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی ۔
عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچنے کی راہ ۔
مگر کیسے ؟
کسی کو پانے کی شدت ہے یا خود کو منوانے کی ۔ ناکامی و نامرادی کا حزن نہیں تو ملال کا گزر بھی نہیں ۔
پھر دل تھام تھام ہمدردی کی جھولی پھیلانے سے درد کے افاقہ کی سیل توڑی نہیں جا سکتی ۔
دل ٹوٹے ٹوٹے گانے میں اچھا ہو سکتا ہے مگر جینے میں بار بار ٹوٹنا سامان رسد باندھ لینا خوشیوں کے روٹھ جانے پر ۔
محبت میں جیت کا راستہ دیکھیں تو کیسے ؟ محبت کا مفہوم ہی نہیں سمجھ پائےتو محبوب کے جلوہ کا تصور ہی آنکھوں کو چندھیا دے ۔
عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ ۔کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں ۔
بزم میں شمع جلاؤ تو بند کواڑ سے عاشق لپکتے ہیں ۔ جو جلنے پر بضد ہوتے ہیں ۔
تنہائیوں کے خوف انہیں موت کے گھاٹ نہیں اتارتے بلکہ جلوہ افروزی پر فریفتہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں ۔
جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں ۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے ۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں ۔
قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں ۔
سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے ۔ غنی ہے ۔ غفور ہے ۔ رحیم ہے ۔ محبتیں اس کی امین ہیں ۔ ہمارے پاس تو امانتیں ہیں ۔ جنہیں لوٹانے میں پس و پیش اور لیت و لعل کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔
سچ لکھنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے تو کسی تار بابو سے خط لکھوانے کی ضرورت نہیں ۔
قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لو ۔
محبت کے سفید کاغذ پر عشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو


تحریر و اشعار ! محمودالحق
در دستک >>

Oct 30, 2011

یہ جینا بھی کیا جینا ہے

انسان اپنی سوچ کے دھارے میں بہنے اور بہانے کے عمل سے دوچار رہتا ہے ۔ کبھی خوشی سمیٹتا تو کبھی غموں کے جام چھلکاتا ہے ۔ جینے کے نت نئے انداز لبادے کی طرح اوڑھے جاتے ہیں ۔ مگر جینا کفن کی طرح ایک ہی لبادے کا محتاج رہتا ہے ۔ برداشت دکھ جھیلنے اور درد سہنے میں طاقت کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے ۔
نقصان عدم اعتماد پیدا کرتا اور بھروسہ کو پامال کرتا ہے ۔ فائدہ تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے ۔ مقدر کے سمندر میں سکندر کی ناؤ بہاتا ہے ۔ انسان سوچتا وہی ہے جو پانا چاہتا ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہو ۔
زندگی میں خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ خوشی موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔ اور مواقع حسد ، رقابت ، لالچ اور نفرت سے کھوتے چلے جاتے ہیں ۔ مزاج مسلسل بگڑے رہنے سے رویے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر دوست دوست نہیں رہتے ۔ محبوب بھی محبوب نہیں رہتے ۔ عیوب کی نظر بد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جیسے ساحل سمندر پر لہریں پاؤں کے نیچے سے ریت سرکا نے سے توازن بگاڑتی اور پھر ساتھ بہانے کی ضد میں ایک کے بعد ایک لہر دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتی ہے ۔جو سنبھلنے اور پاؤں جمانے کی مہلت دینے میں بخل سے کام لیتیں ہیں ۔
محنت سے جوڑی گئی ایک ایک اینٹ جب ایک دوسرے سے کٹ جائے تو صرف ملبہ کے ڈھیر کی صورت میں رہ جاتی ہے ۔ عمارت نقش و نگار سے مزین اور نظر اُٹھا کر دیکھنے میں خوبصورتی کا مجسمہ بنتی ہے ۔نظریں جھکانا احتیاط یا تابعداری میں رہتا ہے ۔ دیکھنے والی آنکھ وجود کا ہی حصہ ہیں مگر نظر میں جزب کی کیفیت روح سے مزین ہے ۔
زمین میں بیج بو کر آبیاری سے ثمر کے حصول تک پروان چڑھانا ایک عمل کا نتیجہ ہے ۔ مگر جس زمین کی تاثیر سے شاخوں میں پھول کھلتے اور رس گھلتے ہیں ۔ وہ جڑوں سے پہنچنے والی طاقت ،مٹی میں عمل تبخیر آبگیری تک آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے ۔
جو درخت گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ، دھوپ سے بچاتے تو سردی میں وہی اپنے سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر انھیں کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ موسم میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے تک انتظار میں رہا جاتا ہے ۔ مگر انسان بھلائی نیکی کرنے والے کی ایک غلطی یا خامی کو حالات کی درستگی تک ٹھیک ہونے کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔بلکہ محبت کی ڈوری سے بندھے رشتے ناطے کو نفرت اور غرض کی آری سے کاٹنے کے درپے رہتا ہے ۔ چشمہ سے ابلتا پانی گرمی میں ٹھنڈک کا احساس دلاتا اور موسم سرما میں یخ بستہ سردی کا احساس مٹاتا ہے ۔ مٹی سے بنا انسان مٹی سے اٹ جانے کو گندگی تصور کرتا ہے ۔ لباس اور وضع قطع سے منفرد اور مسحور کر دینے کی بے لگان خواہش سے عزت ومنزلت اور جاہ و مرتبہ کا متمنی رہتا ہے ۔
آزادی سرکش اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جسے قانون کی کاٹھی سے موافق بنایا جاتا ہے ۔ مگر نفس پھر بھی سرکشی پر مائل رہتا ہے ۔اگر روح کا بار وجود پر بھاری پن کا احساس بڑھا دے تو خلوت کا احساس بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ترغیب گناہ کی لذت کا احساس ضمیر اور خواہش کے درمیان فاصلے مٹاتا چلا جاتا ہے ۔
خوشی لزت سے آشنا ہوتی ہے اور غم خوف سے ۔
غم کے آنے میں غم ہے تو جانے میں خوشی ۔ خوشی کے آنے میں خوشی ہے تو جانے میں غم ۔
جو اسے رضا جان لے تو رضائے الہی سے قلب اطمینان میں دھڑکتا ہے وگرنہ اچھل اچھل بھڑکتا ہے ۔
در دستک >>

Sep 18, 2011

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

جب بخار کی شدت میں دو تین ڈگری کمی آتی تو تیمار داری کے لئے آنے والوں سے ہنسی مذاق میں موڈ خوش گوار کر لیتا ۔ جیسے ہی دوا کے اثرات زائل ہونا شروع ہوتے تو ٹمپریچر 105 سینٹی گریڈ تک پہنچتے پہنچتے مجھے نڈھال کر دیتا ۔ سر ایک طرف ڈھلک جاتا ۔ کھانا پینا تو پہلے ہی دواؤں کی کڑواہٹ کا شکار تھا ۔ کمزوری و نقاہت سے بدن حاجت کے لئے بھی سہارے کا محتاج ہو چکا تھا ۔ نرس گلوکوز کی بوتل میں ہی وقفے وقفے سےگھونٹ گھونٹ ٹیکے ٹکا رہی تھی ۔ خواتین تیمار داری کے ساتھ ساتھ باتیں کم اور کچھ پڑھتے ہوئے ہاتھ کے انگوٹھے سے انگلیوں کو جگا رہی تھی ۔ اور میں جاگتے ہوئے بھی مدہوشی کی کیفیت میں مبتلا تھا ۔
کسی بھی ٹیسٹ میں بیماری کی تشخیص میں مدد نہیں مل رہی تھی ۔ ڈاکٹر ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے تھے ۔ ویسے بھی مریض کو اتنی جلدی ٹانک پر ڈالا نہیں جاتا ۔ کمزوری دنوں میں بڑھتی ہے اور طاقت مہینوں میں لوٹتی ہے ۔ بیماری جڑ سے نکالنے میں گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کی ٹیک دینا ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ ہزاروں کا بل چکانے کے بعد بھی بیماری نے گردن کو اکڑنے کی اجازت نہیں دی ۔ جھکی کمر افسران بالا کے سامنے ماتحت کی عرض مندی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ تکلیف کا خیال آتے ہی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگتے ۔ شدید سر درد اور مسلسل قے کی وجہ سے توبہ ! توبہ ! سر دیواروں سے ٹکرانے کو جی چاہتا ۔ نہ دن کو چین اور نہ ہی رات میں سکون ۔ بھلا ہو ڈاکٹر وں کا ٹیکے لگا لگا ایسا نشہ طاری کیا کہ بیماری سے لا علم نشے کی لت کا شکار سمجھتے ہوں گے ۔ کام کے لئے گھر سے نہ نکل سکے مگر صحت و تندرستی چل چلا پر گامزن تھی ۔
جو دو دن شادی میں شرکت کی تھکاوٹ سے پھر بے حال ہو گئی ۔ سر ایک بار پھر درد کے ہتھوڑے سے ہاتھ ہولا رکھنے میں ناکام تھا ۔ ایک مہربان نے پھر سے ایک دوسرے بڑے ڈاکٹر کے در پہ جا پھٹکا ۔ سرنجوں سے خون نکال نکال لیبارٹری اسسٹنٹ نے آنکھوں میں ایسا اندھیرا پھیلایا کہ کئی مریضوں کو بوتل بھر بھر خون کا عطیہ دینے میں کبھی چکر نہیں آیا تھا ۔ رزلٹ پھر وہی ڈھاک کے تین پات ۔ ہمت مرداں مدد خدا ۔ کلینک کے باہر قطار میں انتظار سے بھی کوفت نہیں ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر کی صورت دیکھ کر یہ پیغام ملتا کہ پاس کر اور برداشت کر ۔ سو پاس کرنے کا اختیار تو بیماری کے سپرد کر دیا اور برداشت کرنے کا اپنے ذمے لیا ۔ معدہ جن ادویات کو برداشت کر چکا تھا اب ان مہنگی ادویات کی شان باقی نہیں رہی تھی ۔
آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ تمام لیبارٹری ٹیسٹ میز پر رکھے تھے جس پر لکھی اے بی سی 123 کے ساتھ پڑھ کر بھی اپنی کم علمی پر ندامت ہو رہی تھی ۔ ڈاکٹر نے بھاری فیس کے عوض جو دوا لکھی وہ سرے سے ہی پلے نہ پڑی ۔ بھاری قدموں سے ہلکے کاغذ پر لکھے نسخے کے ساتھ میڈیکل سٹور پر حاضری دی ۔ دوا ہاتھ میں تھما کر جس رقم کا مطالبہ ہوا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد یہ کیا چند روپوں کی گولیاں ہاتھ لگیں ۔ جسے بچپن میں ماں جی کئی بار کھلا چکی تھیں ۔ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتیں تو بخار نناوے پر آؤٹ ہو چکا ہوتا ۔ ایک سو پانچ کی یاد گار انگز کبھی نہ کھیل پاتا ۔ بقول ڈاکٹر صاحب یہ ملیریا کی ایسی قسم ہے جو لاکھوں میں سے کسی ایک مچھر میں موجود ہے جو پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں میں ایک مریض اس کا شکار ہوتا ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں یہ پایا جاتا ہے ۔ آج ہمیں کوئی فخر نہیں کہ ایسی ہی کسی مچھر کی ڈینگی قسم اب ہمارے ہاں بھی پائی جاتی ہے ۔ جس نے شہر شہر سراسیمگی پھیلا رکھی ہے ۔
کیا بات تھی ماؤں کی ، کسی ڈاکٹر سے کم نہ ہوتیں ۔ بغیر ٹیسٹوں کے ہی تشخیص کر لیتیں ۔ اور مسیحائی کرتیں ۔ آج ڈاکٹر تو بہت ہیں مسیحا کوئی نہیں ۔ بیماریاں آنے میں صبر نہیں کرتیں اور دوائیں اثر نہیں کرتیں ۔
جیسے محبتیں بہت ہیں قربانی کہیں نہیں ۔ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کی بجائے دو ہاتھ دو اور دو ہاتھ لو کے فارمولہ پر ایک وقت میں ایک کام سرانجام پا سکتا ہے ۔ بیماری غریب کے در پر دستک ہر بار دیتی ہے ۔ بہتے برستے پانی جب گھروں میں جوہڑوں کی طرح ٹھہر جائیں تو دونوں خالی ہاتھ کم کشکول بن جاتے ہیں ۔ بلکتے سسکتے بچے ماؤں کی گود میں پانی کو جب ترستے تو وہ بھوکی شیرنیوں کی طرح خوراک کی تقسیم کرنے والوں پر جھپٹ پڑتیں ۔ لاٹھیاں جن کا مقدر کسی کا گولیاں بھی نصیب بن جاتی ہیں ۔ جہاں زندہ سنبھالے نہیں جاتے وہیں لاشیں بن اپنوں کی جدائی کو بھی زرہ بے نشان بنا دیتی ہیں ۔ غریب کی دہائی دہائیوں کے اقتدار کی ضمانت بن کر رہ جاتی ہے ۔ غربت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے کہیں غریب ہی نہ مٹ جائیں ۔ پھر جمہوریت کے تھیلے سے موٹی بلی کیسے باہر نکالی جا ئے گی ۔ کیونکہ امیروں کو نوٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر حکمرانی کے لئے لمبی غریبی لائن کے بغیر جعلی ووٹوں کی بھی انٹری ممکن نہیں ۔ نمائندگی کے دعوی کا دم بھرنے والے بھیک منگوں کی بجائے خودداری کے علمبراد بن جائیں تو عوام صدیوں پہلے ٹیپو سلطان کے کہے گئے الفاظ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے کو پڑھنے سے کڑھنے کی کوفت سے بچ جائیں ۔ شائد وہ سمجھ سکیں کہ ایک حلال لقمہ حرام اور بے ایمانی کے کروڑوں سے بہتر ہے ۔ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو امانت میں خیانت کر کےکردار کی جس عمارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ کتنی آہوں کو دبا کر ،امنگوں کو سلا کر ،ضمیر کی نظروں سے چرا کر تاریخ کے گرد آلود اوراق کی شان بے نیازی تو ہو سکتے ہیں مگر شان امتیاز نہیں ۔ آخری شہنشاہ ہندوستان بہادر شاہ ظفر ایک پیغام چھوڑ گیا ہے انہی سوالیوں کے لئے ۔

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
در دستک >>

Aug 19, 2011

ایک سوال ادھورا جواب

پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔
انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔
اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔
بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔
قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔
قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔


نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔
قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔

تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Aug 14, 2011

جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ

پاکستان کی آزادی کو آج چونسٹھ سال ہو چکے ۔ ایک قوم نے ایک وطن کی بنیاد رکھی ۔ ایک رہنما نے رہنمائی کی شمع جلائی ۔ قوم کے ہاتھوں میں ایک امید کا دیا تھما دیا ۔ جو دئیے سے دیا جلانے کی کوشش کے انتظار میں خود دیا ٹمٹماتا رہا ۔ بجھانے کی نیت رکھنے والے منہ کی کھاتے رہے ۔ آس ٹوٹی نہ امید ۔ جشن آزادی کی نعمت سے جگمگاتے منور ہو گئے ۔ حقیقی خوشی سے محروم طبقہ عارضی پن سے نعمتوں کا شکر بجا لانے میں کسر نفسی کا شکار رہا ۔ قوم چھتوں پر جھنڈیاں پھیلائے جشن کو آزادی کے ترانوں سے گنگناتی رہی ۔
بہت کچھ کھونے کے بعد بہت کچھ پایا تھا ۔ جو اسلام کا گہوارہ بننے میں بیتاب تھا ۔ اصول سیاست میں رہنما تو اصول معاش میں مساوات کے ترازو کے ہر پلڑے میں انصاف برابر یقین محکم تھا ۔
لیکن آج صبح عجب تھی ایس ایم ایس جو ملا شکایت سے بھرا شکوؤں سے تلا بے بسی سے تلملاتا پیغام آزادی کے رنگ سے ہرا تھا ۔ یہ جھنڈا سفید و سبز رنگ سے لہراتا خون آشوب شام کا سویرا تھا ۔ جو نئے چاند کو پہلو میں دبائے چمکتے ستارے سے روشنی پھیلانے کو بیتابی کا مظہر ہے ۔
اٹھاون کا مارشل لاء، پینسٹھ کی جنگ ۔ 71 کی آدھے وجود سے جدائی کے بعد پے در پے صدمات کا بوجھ کندھوں پر ایسے اٹھاتا چلا گیا جیسے باپ کے کندھوں پر نادان معصوم بچپن سوار ہو کر گہرے پانی سے گزر جاتا ہے ۔
آج ان کندھوں کو توانا اور طاقتور بازوؤں کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ تو بازو بغلگیر ہونے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں تنگدستی نے تو کہیں تنگیء داماں نے ہاتھ روک رکھا ہے ۔ خون بہانے سے نئی زندگی کو جلا نہیں ملتی ۔ اور جلانے سے جفا نہیں ملتی ۔ وفا کی سیڑھی محبت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اور محبت آسمان پر پھیلے قوس و قزح کے رنگوں تک ۔محبت تو وسیلہ ہے وفا کو منزل تک پہنچانے کی ۔
وطن ہر وقت دینے کا متمنی رہتا ہے ۔ قوم لینے میں بیتاب ۔ لیکن آج وقت نے آنکھوں سے پٹی کھول رکھی ہے ۔ لینے والے آج دینے میں تاءمل کیوں کریں ۔رگوں میں دوڑتے سرخ گرم لہو میں جو جوش زیادہ دیتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے عزم و حوصلہ کو ایک دھاگہ میں پرونے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ جہاں دانہ دانہ سے چپکا دانائی کی لڑی سے جڑا ہے ۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں جوش کی گانٹھوں کو وفا کے دھاگوں کی مزید ضرورت ہے ۔
جو کامیاب دکھائی دیتے ہیں وہ دراصل ناکام ہیں ۔ ہوس حرص کی محبت وفا کی چاشنی سے لبریز نہیں ۔
گاڑیوں کی رفتار ہارن کی آواز سونے کی جھنکار زندگی کے ساز نہیں ۔ سازندے ہاتھوں کے جادو سے آنکھوں کو چندھیا نے میں شعبدہ باز تو ہوں گے مگر پاکباز نہیں ۔
کیوں نہ آج یہ عہد کریں محلہ محلہ گلی گلی دھواں پھیلاتی موٹر سائیکل سے موٹر اتار کر دودھ دہی ، برگر ، پیپسی لانے میں دو پیڈل کا سہارا لیں ۔ جو بچت بھی ہے ۔ صحت بھی رکھے اچھی فارغ وقت کا بہترین مصرف بھی ۔ ٹریفک کے شور سے پاک ، انتظار کی کوفت سے دور فاصلوں کے قریب ہونے میں مددگار بھی ہوتی ہے ۔ دئیے سے دیا جلاؤ ۔ دوسروں کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی مت گراؤ ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے رفتار بڑھانے کی بجائے قدم بڑھاؤ ۔ جو قدم سے قدم ملائے گا ۔ ایک مقصد کو پہلےاپنا نصب العین بناؤ ۔ ایک کے بعد ایک رسم ضیاع کو تختہ مشق بناؤ ۔ رئیسی کی طفلانہ حرکت بچگانہ پر صرف مسکراؤ ۔
نہ گھیراؤ نہ ہی کچھ جلاؤ ۔ صرف دیا سے دیا جلاؤ

محمودالحق
در دستک >>

Jul 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق
در دستک >>

Jul 26, 2011

رشتے دل کے جو جان پر بن آئے

بات نہایت مختصر بیان کرنے کی جسارت کروں تو سمجھنے سمجھانے میں پل صدیوں میں ڈھل جائیں ۔ سحر آفتاب غروب کے منظر کو مہتاب کر دے ۔ بات آفتاب کی نہیں جو شمش کہلائے تو شمشیر سے گہرا اثر اپنی حدت سے چھوڑ جائے ۔ یہاں ذکر ہے رشتوں کا جو کبھی بندھتے ہیں تو کبھی چھوٹتے ۔ گردش ایام کے پابند رہتے ہیں ۔ گردش کائنات سے سروکار نہیں رکھتے ۔ کیونکہ وہاں سرکار کسی کی نہیں ۔ موج مستی صرف اتنی کہ پاؤں زمین پر تھرک سکیں ۔ جو آنکھ سے اوجھل ہے چاہے پہاڑ کے پار ہو یا پہلے آسمان سے آگے ۔ خواہشوں کی بیڑیاں پہنے طوق غلامی سے جھکتا چلا جائے ۔ پھر بھی رہتا شکوہ اپنے پن سے جو بیگانگی میں اغیار کی پرستش میں مسیحائی کا طالب ہو ۔
در دستک >>

Jul 24, 2011

دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

محبت ، خلوص ،رواداری سے اپنا بنانے کے لئے جو بھی عمل کیا جائے وہ انجام خیر سے بے خبر ہوتا ہے ۔ انسان دو آنکھوں سے زمانے بھر کو دیکھتا ہے ۔ کبھی دکھ سکھ میں آنسو تو کبھی غصہ میں آگ کی لالی سے پانی بہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دو بار ہی آنکھیں دو آنکھوں سے چار ہوتیں ہیں ۔ جو سیدھا نشانہ دل پہ لیتی ہیں ۔ پھر عقل سے نظر کی تمام طنابیں چھوٹ کر دل کی دھڑکن سے جڑ جاتیں ہیں ۔ تمام رشتے ایک نظر کے سامنے ہیچ لگتے ہیں ۔ سوچ عقل کی سٹاک مارکیٹ دلاں دے سودے میں مندے کا شکار ہو جاتی ہے ۔
آسمان پہ چپکے سفید روئی کے گالوں کی طرح برسنا قسمت میں نہیں ، صرف ٹہلنا رہ جاتا ہے ۔ جو نہ تو دھوپ سے بچاتے ہیں اور نہ ہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتے ہیں ۔
آسمان سے باتیں کرتے جنگلی درختوں کی طرح اکڑے ثمرات سے بے فیض ہوتے ہیں ۔ اظہار محبت کے لئے تین لفظوں سے لے کر ایجاب و قبول کے درمیان اٹک جاتے ہیں ۔ زندگی کا یہ مختصر ترین عرصہ صدیوں سے چلتی معاشرتی قدروں کے سامنے بغاوت کا علم بلند کر دیتا ہے ۔ عزت کا جنازہ نکل جانے کا غم نہیں ۔ پانے کی خواہش اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے ۔ کہ جیت کے نشہ سے بڑھ کر نشہ کی علت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن کی یادیں احسان فراموشی کی شال اوڑھ لیتی ہیں ۔ میں کی عینک میں منزل مراد وحید ہو جاتی ہے ۔ کھلونوں کے بازار میں کھڑے بچے کی مانند جو صرف اپنی پسند پہ فریفتہ رہ جاتا ہے ۔ اوراگلی بار پھر کسی اور پسند پر ۔ ایک زمانہ کی پسند ایک زمانہ تک رہتی ہے ۔
حسرت کا یہ کوہ پیمائی سلسلہ خواہشوں کے انبار میں قوت خرید کی بنا پر ایک وقت میں ایک خواہش کی تکمیل کی تدپیر نہیں رکھتا ۔
در دستک >>

Jul 22, 2011

بھولنے والے بھول جائیں

اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا تودیوانہ کا خواب تھا ۔
جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔
ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔
آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے محروم رہے ۔
طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔
اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں میرا ، تو تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں یا جو سن لیں اسی پر یقین کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔
ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter