Jan 10, 2014

فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں


فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں
وعدہ ہے اس کا کیوں پریشاں فکرِ تصویر ہیں

روشنیوں کا ہجوم ہے تاریکیوں کی تنہائی میں
خود سے ہیں جو جلتے ستارہء آسماں بے نظیر ہیں

تفریح طبع میں جنہیں قیام جیتے زندگیء ایام
پھول میں نہیں ارمان مہک بنتے اکثیر ہیں

چاہے دیواریں ہی اُٹھا دو یا پردے ہی گرا دو
چھپ نہیں پاتے باندھے نفسِ زنجیر ہیں

لٹتے اپنے ہی ہاتھوں بندگی زیست بیگانی ہے
مقام ان کے محمود ہیں نبھاتے جو حکمِ نذیر ہیں

بھروسہء جزا کے رکھتے جو توکل میں ایمان
مشرق ہو یا مغرب عمل ہی ان کے دستگیر ہیں

لگتے کہیں تو پکتے کہیں توشہء مخبون ہیں
قلب پہ ہیں جو رکھتے کلام لہنِ دلگیر ہیں

خدا سے جو جدا ہے زندگی ہی وہ خطا ہے
لکھا نہیں جاتا بےکار ترجمہ بھی تحریر ہیں

خدا نے جو آنکھیں دیں نظارہ پلکِ تصویر ہیں
قلبِ مکان میں یہ سب جہاں تو راہ گیر ہیں

جہاں وہ جاتے ہیں وہاں سے آتے نہیں
پھر کیوں ہیں رکھتے الگ الگ تدبیر ہیں

مغرب میں ہیں جو جاتے مشرق سے ہیں وہ آتے
پھر کیوں ہی یہ پلٹتے جمِ غفیر ہیں

خیال رست   /محمودالحق


۔۔۔٭۔۔۔
در دستک >>

Dec 16, 2013

انشااللہ

بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب تک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی چاہ شامل نہ ہو جائے۔ تاریخ شاہد ہے مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔ اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہو اگر ان کا اللہ چاہے تو۔
تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زد عام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی اصل طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہے۔ باطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نئے نئے انداز ترنم آبشار کی لگنِ دھن رکھتے ہیں۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں۔ تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع و تفریق کے فارمولہ کے تحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہر بالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔
انسانی معاشرے میں بے حسی ، بے مروتی، خیر و شر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا ، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھلنے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والےعہد و پیمان کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے، ایثار کرنے والے دوسروں کی نظر میں ہمیشہ سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں  جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ منزل تک جلد پہنچنے کا ارادہ کرنے والے اور کسی مجبوری سے بیچ راستے سے ہی واپس پلٹ کر سفر پر نہ جانے والے اسی جہاز یا گاڑی کے حادثہ کے شکار ہونے کی روح فرسا خبر کو ایک بدقسمتی اور دوسرے خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔
تیز ہواؤں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت۔ یہ ایک خودکار سسٹم ہے جس کے وہ تابع ہیں۔ پانی ،روشی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والے پتے ٹہنیوں و تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتے رہیں گے ۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائیگا۔
روشنی پانی  ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ،  روشنی  پانی  ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جب کہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔ عظیم وہ ہے جو عظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسنِ اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور امانت داری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائے شرافت و دیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کا مینار کوئی کوئی تھا۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذیبی و ترتیبی معاشروں میں حسنِ اخلاق و اخلاص کی کیاریاں پھولوں کو سینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ  اور بے ترتیب ہوتے ہیں جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں ، پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاجِ کثیر سے روح کو تسکین پہنچاتے ہیں۔


تحریر : محمودالحق
در دستک >>

Jul 22, 2013

جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے



جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے
جس پر زمانہ تجسس کرے وہ علم تمہارا ہی تو ہے

لفظوں سے جو کھلے وہ کتابِ گل تمہارا ہی تو ہے
مجھے صرف یہ خاک سب جہانِ کل تمہارا ہی تو ہے

ہوا کے دوش پہ ہے جو چلتا ابرِ کرم تمہارا ہی تو ہے
نظر ٹھہری جو ایک رخ وہ کعبہ حرم تمہارا ہی تو ہے

کوشش میں رہتے جو تلاش ِرزق تمہارا ہی تو ہے
دھارِ ایمان پہ ہے جو چلتا خلق تمہارا ہی تو ہے

آفتاب کرن سے ہے آبِ لشکارہ تمہارا ہی تو ہے
مہتاب کی چاندنی تو چمکتا تارا تمہارا ہی تو ہے 

۔۔۔٭۔۔۔
برعنبرین /  محمودالحق


در دستک >>

اپنی ہی کماہاں میں یہ جہاں چلتا ہے


اپنی ہی کماہاں میں یہ جہاں چلتا ہے
اپنی ہی تاباں میں یہ کہاں جلتا ہے

اپنی ہی نیاباں میں یہ زیاں پگھلتا ہے
اپنی ہی طریقاں میں یہ بیاں رکھتا ہے

اپنی ہی شتاباں میں یہ مہکاں رہتا ہے
اپنی ہی اونچاں میں یہ زیراں بھٹکتا ہے

اپنی ہی خاراں میں یہ گلستاں سلگتا ہے
اپنی ہی بہاراں میں یہ آبشاراں ملتا ہے

اپنی ہی ناداں میں یہ نازاں سلتا ہے
اپنی ہی بصیراں میں یہ تعبیراں کٹتا ہے

 ۔۔۔٭۔۔۔

برعنبرین /  محمودالحق


در دستک >>

Apr 29, 2013

السلام علیکم

میڈیکل سٹور کا دروازہ کھولتے ہی کام کرنے والے تمام افراد پر ایک سرسری نظر ڈال کر میں نے بلند آواز سے السلام علیکم کہا اور سیدھا کاؤنٹر پر جا پہنچا۔ جہاں ایک با ریش نوجوان کمپیوٹر پر نگاہیں جمائے کھڑا تھا۔کچھ دیر اس کا چہرہ تکتارہا۔اس نے سر اُٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی اور نہ ہی سلام کا جواب دیا۔میں نے پلٹ کر دوسرے ملازمین سے توجہ طلب نگاہوں سے مدد چاہی تو ایک نے احسان عظیم کیا اور اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔میں آگے بڑھا اور اس غم گسار کے سامنے مایوسی کے گہرے سائے کو روندتے ہوئے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جو انتہائی لاپرواہی سے میرے  منہ سے کسی کڑوی دوائی کا نام سننے کے انتظار میں تھا۔لیکن آج میں ان کا جنرل نالج آزمانے گیا تھا۔تاکہ وہ میرے گھر کے قریب ترین ایسی جگہ  کا پتہ بتا دیں جہاں سے میں اپنی دس سالہ بیٹی کے دائیں ٹانگ پر چڑھائے گئے پلسترکی وجہ سے چلنے پھرنے کے لئے بیساکھی کا انتظام کر پاؤں۔
میرے لئے بیساکھی کا ٹھکانہ معلوم کرنے سے زیادہ یہ جاننا بہت ضروری ہو چکا تھاکہ میڈیکل سٹور میں موجود پانچ ملازمین میں سے کسی نے بھی میرے سلام کا جواب  کیوں نہیں دیا ۔ میں نے انتہائی لا پرواہی اور کسی قدر غصہ میں ان سب سے یہ سوال کیا کہ  جس ملک میں ہم رہتے ہیں کیا اسے  ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی کہا جاتا ہے اور یہاں بسنے والے مسلمان کہلاتے ہیں تو انہوں نے بیک زبان کہا کہ جی بالکل!
میں نے ان سے استفسار کیا کہ پھر انہیں میرے سلام کے جواب میں   وعلیکم السلام کہنے میں کیا عذر تھا۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ حالانکہ وہ السلام علیکم کا مطلب بخوبی جانتے تھے۔انہوں نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا۔ جو ان کے چہروں سے عیاں تھا۔انہوں نے منزل تک پہنچنے کی میری رہنمائی کی۔ ان کا شکریہ ادا کر کے میں نئی منزل کی طرف گامزن تھا۔ مجھے رہ رہ کر امریکہ میں گزارے صبح دوپہر شام اور رات میں کہےجانے والے کلمات یاد آنے لگے۔ گڈ مارننگ کے جواب میں گڈ مارننگ ، گڈ ایوننگ کے جواب میں گڈ ایوننگ، ہیو اے نائس ڈے کے جواب میں یو ٹو،تھینک یو کے جواب میں یو آر ویلکم ضرور کہا جاتا تھا۔اگر کسی سے پوچھیں آپ کیسے ہیں جواب میں اچھا کہہ کر آپ کا احوال ضرور پوچھتا۔مگر مجھے اپنوں سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ وہ سلام کا جواب دینے میں تامل کرتے ہیں۔ حال احوال پوچھنے پر اجنبی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فون کی گھنٹی بجنے پر ہیلو سے جواب دیا جاتا ہے۔ فون کرنے والا بھی ہیلو سے اپنا تعارف کراتا ہے۔ 
ہر واقف و ناواقف مسلمان کو سلام کہنا سنت ہے۔سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن میں ہے سورۃ النساء آیت نمبر 86 میں یوں آیا ہے:
اور جب تمھیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو۔
سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا، عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا، کسی عیب یا آفت سے نجات پانا۔ سلام اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالٰی کے صفاتی ناموں میں سے بھی ہے ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد دو یا دو سے زیادہ مسلمانوں کی آپس میں ملاقات کے وقت کی دعا یعنی السلام علیکم کہنا ہے۔ جواب کے لیے وعلیکم السلام کے الفاظ ہیں۔
ہمارے بزرگ بات کرنے کا سلیقہ اور بڑے بزگوں کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ سکھاتے تھے۔ جسے جدید دنیا کے والدین نے نئے انداز سے بدل دیا ہے۔بچوں کو سبق یاد کروائے جاتے ہیں مگر آداب نہیں سکھلائے جاتے۔ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔اپنے ارد گرد نظر نہیں رکھتا۔معاشرے میں اجنبیت کا رحجان فروغ پا رہا ہے۔اگر یقین نہیں آتا تو  میری طرح اپنے گھر ، علاقہ سے    چھ آٹھ سال کے لئے دور رہ کر واپس لوٹیں گے تو احساس ہو گا کہ کہیں نہ کہیں ہم سے کچھ چھوٹ رہا ہے جیسے بلندی سے گرتے ہوئے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے چھوٹنے کے لئے پھسلتا ہے۔
ہم اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کے نظریات کو غلط ثابت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔آخر کہیں تو کچھ ایسا ہو رہا جو تبدیلی کے مراحل خاموشی سے طے کر رہا ہے۔جس گاڑی کی بریک نہ ہو اس کے لئے انتہائی سپیڈ اور موٹر وے جیسی سڑک بھی بلا ضرورت ہے۔جس انسان میں اپنی خواہشوں کو روکنے کی حد نہ ہو اس کے لئے کامیابی شتر بے مہار کی مانند ہے۔ جیسے ڈھلوان کی بلندی سے  قلابازیاں کھا کر نیچے تک پہنچا جائے۔
دوسروں کی خوشیوں میں ماشااللہ کہہ کر شامل ہوا جاسکتا ہے۔انشااللہ کہہ کر خود آگے بڑھا جاسکتا ہے۔جزاک اللہ کہہ کر دوسروں میں ہمت و حوصلہ بڑھایا جاسکتا ہے۔اچھے وقت کا صبر سے انتظار کیا جاسکتا ہے۔سورۃ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے ۔اے ایمان والو ! تم صبر اور نماز سے مدد مانگو۔بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
کینہ، حسد، لالچ سے بچ گئے تو محبت،قربت،شکر کے پھل سے فیضیاب ہوں گے۔نفرت، حقارت،گھمنڈ،ضد،غرور سے چھٹکارا مل گیا توقرب،اپنائیت،عجز و انکساری سے دامن بھرتے جائیں گے۔
سورج کو مشرق سے طلوع ہوتے روز دیکھتے ہیں۔خود کو مشرق میں غروب ہونے کا منظر آنکھوں میں سجاؤ تو گردش زمین آشکار ہوتی ہے۔جیسےپھل پر چھری چلا کراوپر سے نیچےتہہ تک کاٹتے ہیں ایسے ہی تہہ سے اوپر تک پھل کے مکمل ہونے کو نظروں میں بساؤ توقدرت اپنی طاقت کا لوہا منوانے پر اُتر آئے گی۔
ظاہر کی نفی سے باطن کی آگہی زمین سے تعلق اور قطع تعلق کے درمیانی فاصلوں کو بڑھاتی جائے گی۔قربت کے فاصلے عشق و محبت سے سمٹتے جائیں گے۔
وجود اپنے نہ ہونے اور عدم اپنے ہونے سے قیاس و حقیقت کے رشتے کو بندش و آزادی کے جہان اُلفت میں دیوانگی و جنون سے ایک کو گھٹاتا تو دوسرے کو بڑھاتا جائے گا۔
لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب  دوسرے سے اختلاف سے پہلے خود کے تضاد کو عمل کی کسوٹی پر پرکھ کر یک اتفاقی  میں پرویا جائے  تو نا اتفاقی کی گانٹھیں خود بخود ڈھیلی ہونا شروع ہو جائیں گی۔
 جو اپنی ذات کو منوا لیتے ہیں وہ اپنی بات بھی منوا لیتے ہیں۔جو اپنی بات منوانے میں عمر گنوادیتے ہیں وہ اپنی ذات بھی گنوا لیتے ہیں۔
جو پانے کے لئے مضطرب رہتے ہیں وہ کھونے پہ بےچین ہو جاتے ہیں۔
 جن کا حاصل ان کا مقصود نہ ہو، ان کا مقصد لا حاصل رہتا ہے۔
جو   برترسے حسد کرتا ہے وہ  کم تر سے تکبر کرتاہے۔
جو خالق سے محبت کرتا ہے وہ مخلوق سے نفرت نہیں  کر تا۔
سچ کو ماننے والا سچ کو جاننے والا ہے۔
جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے وہ معاف کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔
جسے اختیار کا یقین ہے اسے بے اختیاری کی پرواہ نہیں۔
جسے ملنے کا یقین نہیں اس میں پانے کی شدتِ خواہش نہیں۔
قرآن سے جس کا لگاؤ نہیں اللہ کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں۔

تحریر!   محمودالحق


در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter