May 11, 2014

غلافِ عشق


 عشق و محبت کا موضوع  توبہت پرانا ہے۔معاشرہ ہمیشہ اسے خلافِ عشق گردانتا رہا۔حالانکہ عاشق و محبوب اس سے خ خوشی محسوس کرتے تھے۔ مگر حالات  نے انہیں  غ غم میں مبتلا کیا۔ اسی لئے تو خ لاف کو غ لاف سے مربوط کر دیا۔
یہاں خ غ کا قائدہ قانون بتانا مقصود نہیں ہے۔ جن کی حفاظت کی جانی ہوتی ہے انہیں محفوظ کیا جاتا ہے۔  جو خوشبو پھیلاتے ہیں وہ کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح کھلے نظر آتے ہیں۔ اپنی ذات کو وقت آنے پر فنا کر دیتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو سپیس دیتے ہیں۔
 مگر جو ان کی محبت کو نچوڑ لیتے ہیں۔وہ انہیں غلافوں میں بھر بھر رکھتے ہیں۔ ایسی چاشنی ، لذت اور مٹھاس روئے زمین پر اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ صحت بخش ، توانائی  بھی ہوتی ہے بیماریوں سے نجات کا  ذریعہ بھی۔ انگریز انہیں ہنی اور ہم شہد کہتے ہیں۔ ہنی کا لفظ اس لئے استعمال کیا  کیونکہ اس کی افادیت شہد بتانے سے قدرے زیادہ ہے۔حکیم ان سے علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔جب اس کا استعمال بڑھا تو یار لوگ ملاوٹ کرنے وہاں بھی پہنچ گئے ۔ شکر کے شربت اور لکڑی کے گھروندوں میں غلافِ عشق بنا ڈالے۔جن کی نہ ہی تاثیر ہے نہ ذائقہ۔فائدہ تو کیا ہونا تھا چاہنے  والوں کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔شکر سے کچھ زیادہ مٹھاس کے علاوہ افادیت ہی کھو بیٹھا۔جب عشق و محبت میں سچائی کی خوشبو ڈھونڈنے والے مصنوعی تاک دان میں عشق کو غلاف میں لپٹا پائیں گےتو ان میں جستجو چاہت قربانی کے  جزبات اہمیت و قدر کے ساتھ ساتھ پاکیزگی اور شفافیت بھی  کھو دیں گے۔
 عشق قربانی مانگتا ہے یہاں تک کہ جان بھی عزیز نہ رہے۔اگر عاشق محبوب کی قربت کے خیال سے نفاست نصف ایمان سے بھی بڑے درجہ پر لے جائے تو اسے عشق کو غلاف میں لپیٹ کر رکھنا ہو گا۔موسمی اثرات ہوائے گرد آلود سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ عشق حقیقی کو  مجازی بننے سے ۔ جن کی منزل ایک ہوتی ہے وہ مسافر قربت کی پگڈنڈیوں سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحریر ابھی تک واضح خدو خال کے ساتھ دل اور دلدار کے بغیر  غلافِ عشق کے زمرے   میں نہیں  آ ئی۔
عاشق ذہن پر دباؤ کا شکار ہوں گے اور محبوب قلب کی تیز دھڑکن کا۔  
مقدس کتاب کی طرح یہ غلاف بھی مقدس عشق کا ہے۔  ایک سچےواقعہ سے غلافِ عشق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
3 فروری 2012 بروز جمعۃالمبارک اوکلوہاما کے شہر تلسہ میں ایک بڑی جامع مسجد کی دوسری صف میں کھڑا ایک نمازی جس کے بائیں جانب 60 اور دائیں جانب 45 نمازی نیت باندھے کھڑے تھے۔  مسجد داخل ہونے سے پہلے وہ سگریٹ کے پیکٹ میں  آخری سگریٹ کو  دھوئیں میں ڈھال کر وضو کرتےہوئے  نئے سگریٹ کے پیکٹ کے نہ ہونے کےافسوس میں مبتلا تھا۔ کیونکہ  بینسن اینڈ ہیجز  برانڈ ہر جگہ سے نہیں ملتا   تھا۔ اسی چاہت شوق میں جو وہ پچیس سال سے پالے ہوئے تھا مسجد میں نمازیوں کے ساتھ نیت باندھے کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح عشق کو غلاف سے نکال لیتا اور امام کے پیچھے اپنی ناقص عقل سے الحمداللہ رب العالمین کو جزب کرنے کی کوشش کرتا۔  لیکن اس دن عشق نے نماز تک پہنچنے والے خیال کو آڑے ہاتھوں لیا۔  ہاسپٹل دفتر تو ایک طرف بسوں اور پارکوں میں جس کے سلگانے کی اجازت نہیں ہے  ۔ چند کلیوں کے بعد رب العالمین کا نام لینے  سے کوئی ملال نہیں جس کی بد بو ابھی تک سانس میں رواں تھی۔ اس خیال کے آتے ہی قلب کے نہاں خانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ جسم کے روئیں روئیں سے  لہو غلافِ عشق اُتار کر پچیس سال سے دماغ میں بسی چاہت  دھواں کو ایک ایک خلیے سے نکال باہر لائے ۔ اور پورے وجود کو ایسے نہلا دیا جیسے بارش کے بعد چاندنی رات میں زمین کو روشنی سے نہلا دیتی ہے۔جسے نماز سے پہلے وہ فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ اب وہ اسے یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ جسے ہاتھ سے  چھونا اور ہونٹوں سے لگانا ایک نشہ میں مبتلا کر دیتا تھا ۔ آج وہ چاہت بے ثباتی اسے ایسے چھوڑ گئی جیسے کسی زندہ وجود سے روح نکل کر واپسی اختیار نہیں کرتی۔عشق میں سچائی ہو دیانت ہو ایمانداری ہو محبوب کی عزت و تکریم  کا خیال ہو۔تو عشق لہو بن کر رگوں میں دوڑتا ہے۔
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے

تحریر : محمودالحق




در دستک >>

Apr 23, 2014

حسنِ خیال


تخلیق کائنات کا حسن اُس کی کھوج جستجو اور نا مکمل تحقیق کے باوجود پوری دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ موجزن ہے۔جدید سائنس نیوٹن سے لے کر آئین سٹائن تک تحقیق و مفروضوں کی بنیاد پر اصل حقیقت جاننے سے ابھی اتنے ہی دور ہیں جتنے ایک نظام شمسی دوسری گلیکسی کے نظام شمسی سے فاصلے پر ہے۔ ان دیکھی مخفی طاقتیں نہایت وزنی مادہ وجود کو مخصوص دائرے میں محو گردش رکھتی ہیں۔جانداروں کے افزائش کے مراحل نہایت رازداری سے چھپ کر طے پاتے ہیں۔ جیسے ایک ننھا بیج زیر زمین ایک مخصوص فاصلے پر رہ کر ہی پروان چڑھتا ہے۔جہاں سے اسے حدت و ہوا ، روشنی و پانی موصول ہوتی ہے۔غرض یہ کہ شاخیں ہوں یا اعضائ جڑ کی بدولت ہی حرکت میں رہتے ہیں۔الگ ہوتے ہی سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں اور آخر کار اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔
انسان تخلیق کائنات کا سب سے خوبصورت جزو ہے۔وگرنہ اتنے بڑے نظام کائنات کے ہوتے ہوئے ایک خودسر اور متکبر تخلیق کی کیا حیثیت۔ بچپن سے بلوغت تک پہنچنے کی ایک مقررہ مدت ہے۔ اس سے پہلے افزائش نسل انسانی بھی ممکن نہیں۔
اندھیرا بے سبب ہوتا ہے، روشنی کا منبع ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں ایک روشن آلاؤ دہک رہا ہوتا ہے۔ جو فاصلوں کو مقید رکھتا ہے۔اندھیرے قریب آنے والے ہر وجود کو فنا کر دیتے ہیں۔جیسا بلیک ہول کے قریب جانے والے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔
اللہ تبارک تعالی کے فرمان حدود و قیود میں رہتے ہوئے حقوق و فرائض کی گردش رفتار کا اہتمام کرتے ہیں۔ایک زرہ سے لے کر ایک جہان تک پابندی اوقات و رفتار کی حدود وقیود میں رہتے ہیں۔مگر انسان اپنی سرشت میں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا متمنی رہتا ہے۔لہذا پیغمبروں کے علاوہ مقدس کتابیں بھی رہنمائی کے لئے اُتاری جاتی رہیں۔قرآن کی صورت میں ان سب کو یکجا و مکمل کر دیا گیا۔پھر اس کے بعد کسی نبی خدا کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔کائنات کو جاننے کا عمل دنیا کے قائم رہنے تک جاری رہے گا۔مگر خالق کائنات کی تلاش اور جاننے کی صورت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں رحمت بن کر آنے سے ختم ہو گئی۔ اب صرف خالق کائنات کو اپنا ماننا اور خود کو اس کے حوالے کر دینا باقی ہے۔ تاکہ اس کی رحمتوں کا ایک جہان گردش ثمرات سے ہمیں منور کر دے۔ جاندار اور بے جان نظام حیات و نظام کائنات کی طرح نظام رحمت سے بنی نوع انسان اپنے نظام وجود کی تکمیل کر پائے۔
دنیاوی خواہشات سے لبریز نفس انسانی وجود میں بلیک ہول کی طرح کام کرتا ہے۔ ہدایت روشنی کی حدود وقیود سے آزادی پانے والے نیک خیال نفس کے اس بلیک ہول میں فنا ہوتے جاتے ہیں۔اپنے وجود کے اندر اس بلیک ہول کو پہچاننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور ہدایت کی روشنی ہی اس کا مقدر ہونا چاہیئے۔اپنے اپنے دائرے میں حرکت کرتے ہوئے دوسروں کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے دن رات اور گرم سرد کا وقت معین پر انتظار کرنا ، خواہشوں آرزؤں کی عارضی قبولیت سے اندھیروں میں غرق ہونے سے بہتر ہے کہ ہدایت کی روشنی کے گرد اپنے سفر کو جاری رکھا جائے۔جو ایک وقت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے گی ، نہ کہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو۔
خالق کائنات رب زوالجلال کو ایسے یاد کیا جائے کہ اس کے احکامات کی پاسداری اور تکمیل جزئیات کے ساتھ مکمل بندگی میں پرو دی جائے۔تو ایسی کئی رحمتیں رضا بن کر ہر مشکل گھڑی میں مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔زندگی  ایک تہائی عمر حکم کی بجاآوری کے بعد اس راستے پر گامزن ہو جائے۔جہاں نفس کے بلیک ہول میں غرق ہونے کی بجائے ہدایت کی روشنی روح کو منور کر دے۔ تو سمجھنا کافی ہے کہ اصل راستہ کی پہچان اور آگاہی منزل مقصود کی قربتوں کی ہمراہی ہے۔
تحریر ! محمودالحق

در دستک >>

Apr 20, 2014

سپرد رضا


انتہائی بھوکے پرندے جب کسی دالان ، کھیت کھلیان میں بھوک مٹانے اترتے ہیں تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر نہیں رکھتے بلکہ اپنے کان اور آنکھیں خطرہ بھانپنے کے لئے کھلے رکھتے ہیں۔ہڑبونگ ادھم مچاتے بچے بھی انہیں موت کے فرشتے نظر آتے ہیں۔ جہاں انہیں کھانا کھانے سے زیادہ جان بچانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔دوسری طرف بعض جاندار بھوک مٹانے کے لئے آخری کھانا سمجھ کر مرنے مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ پیدا کرنے والا ہی زندہ رہنے کی گارنٹی دیتا ہے۔پھر بھی جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو جیسا فلمی ڈائیلاگ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت سننے میں آ جاتا ہے۔ شادی بیاہ پر طوفان بد تمیزی برپا کرتے مہمان اتنے اہم نہیں ہو سکتے کہ زور قلم کو حرف نظر کر دیا جائے۔ اس لئے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
پانی کے آٹھ گلاس پینا صحت بخش ہے۔ چائے مضر صحت ہے۔ چاکلیٹ ،سوڈا بچوں سے دور رکھنا اچھا ہے۔انڈے دودھ چاول روٹی کے ساتھ تازہ پھل کا استعمال صحت کی تر و تازگی کا سبب ہیں۔ شوگر کے مریض چینی کا استعمال کم کریں۔ ہائی بلڈ پریشر والے نمک سے پرہیز برتیں۔صبح یوگا تو شام کو سیر کریں۔رات بستر میں جلد گھسیں صبح جلد نکلیں۔بھاگم بھاگ دکان دفتر پہنچیں تھک ہار واپس پلٹیں۔ایک مکمل اور پابند زندگی جہاں شب و روز کوئی نیا تماشا نہیں جہاں بیماری میں پرہیز تو تندرستی میں گریز برتا جاتا ہے۔
اس اُمید پر سوتے ہیں کہ جاگنا ہمارا مقدر ہے۔ اس اُمید پر گھر سے نکلتے ہیں کہ واپس  لوٹنا  ہمارا مقدر ہے۔کوشش نامکمل ہی کیوں نہ ہو نتیجہ سو فیصد چاہتے ہیں۔
اگر سورج  نظام کائنات سے نکلنا چاہے تو نکلنے کی اجازت نہیں۔ بادل بے آب و گیاہ ریگزاروں تک پہنچنے کے پابند ہیں۔ کہیں ہوا کا کم دباؤ ارد گرد ہواؤں کو آندھی کی صورت وہاں پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں مایوسی کی بنجر زمین پر موسلا دھار برستی ہیں۔ جو نم رہتے ہیں وہ پروان چڑھتے ہیں۔جو روٹھے رہتے ہیں وہ سوکھے رہتے ہیں۔
کسی نے کچھ نہ کیا اسے بہت کچھ مل گیا  اور کسی نے بہت کچھ کیا مگر اسے بہت کم ملا۔ موت کفن قبر  بر حق مانتے ہیں۔ رزق عزت مقام پر حق جتاتے ہیں۔ حق کو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔خالق سے محبت کے دعویدار ہیں مگر صرف جھکنے کی حد تک۔سچ تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔ رحمان رحمت کے زینے سے سینے میں دسترس رکھتا ہے۔ غرور و تکبر زمین سے پاؤں کی دھول مثل اُڑتا ہے۔ کیسے کہیں ہم تجھ سے  راضی ہیں تو ہم سے راضی ہو جا۔ راضی بالرضا سے ہو گا۔
خالق سے محبت کا تقاضا ہے کہ سپرد رضا کر دیا جائے اس سے پہلے کہ سپرد خاک کر دیا جائے۔
 
 
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

Apr 14, 2014

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

 

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

خوشی گر کم نہیں غم رہتا نہیں سدا
 

موت پہ جن کے منڈلاتے سایہ رزقِ کفن کے

نفس ِ آدمیت سے کٹتے روحِ ایمان سے جدا
 

زمین سے چھپاتے عرش آسماں سے ٹکراتے

جھکتے نہیں جو اُٹھائے جاتے وہ نورالہدیٰ
 

خط تو آ چکا اطلاع کی رات ہے باقی

راستہ خود ہوتا روشن شب نہیں جن کی خوابیدہ
 

تامل ہے بے نام  اوسان پھر کیوں ہیں خطا

بھروسہ پہ جو رکھ دیتے اپنا سر سجدہ، خدا
 

کاغذی پیراہن سود و زیاں ہاتھوں ہاتھ میں

آب ریشم ہیں اوڑھ لیتے جو اپنی باطن ردا
 

کالی رات ہے قلم سیاہی ورق سیاہ پر

شہہ رگ سے جدا خود پہ پھر کیوں فدا
 

محمودالحق
 

۔۔۔٭۔۔۔
 

در دستک >>

ہاف فرائی فل بوائل


صبح سب سے پہلے بیٹی نے آ کر ہیپی برتھ ڈے ابو جی کہا تو آنکھیں  چمک اُٹھیں پھر باری باری بیٹوں نے بھی یہی کلمات دھرائے تو شکریہ کہہ کر محبت کا احسان چکا دینے کی ادنی کوشش کی ۔ جیسے کسی افسر کو ترقی کے ساتھ ساتھ علاقہ غیر میں تعیناتی کے احکامات بھی ساتھ موصول ہوئے ہوں۔اب ظاہر ہے پچیس تیس کی سالگرہ پر ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ عمر جان کر کیا کریں گے۔ اگر درخت سے آم توڑ کر کھانے کی نہیں ہے تو آم کھا کر گھٹلیاں گننے کی بھی نہیں۔ اس کا مطلب تو یہی لیا جائے گا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اکبر اعظم کے دور اقتدار سے زیادہ نہیں تو سلطان سلیمان کے عہد حکومت سے کسی طور کم بھی نہیں۔ کچن مصالحہ کی ناک کے نتھنوں سے کھوپڑی کے نیچے تک تیز خوشبو کو چھینکنے سے آرام کا طالب تھا۔ ہوائے راہدار نے مشکل کو کافی حد تک سنبھالے رکھا۔جی ایگزاسٹ کو یہ کریڈٹ دینے کی پابندی سے مستثنی نہیں ہوں۔ یہ سب سالگرہ کی خوشی میں ہانڈی میں بھگایا چولہے پر چڑہایا اگ پہ تپایا نہیں جا رہا تھا بلکہ بچوں کے تایا کی برسی کے اہتمام میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ سب ایسے ہی ان کے ابو جی کے بچپن سے ہی چلا آرہا تھا۔ میں نے کیا پڑھا اتنا پڑھنے کے بعد بھی نہ پڑھائی کا پتہ چلے نہ ہی ڈگری کا۔ تو پھر پڑھنے کا کیا فائدہ۔ شکر ہے یہ وہ زمانہ نہیں جب دشمن شہر کی فصیلوں تک آ پہنچا تھا اور اہل دانش کوا کو حلال و حرام قرار دینے کے لئے پورا زور لگا رہے تھے۔ آج ایسی صورتحال نہیں روزی روٹی کے لئے کی جانے والی کوششیں  بھی حلال حرام سے مستثنی ہیں۔ کیوں نہ ہوں دس سے بیس کرنے والے اور ایک انگوٹھی سونے کی دو بنانے والے شہروں بستیوں میں کرامات سے نسل انسان کو بیوقوف سمجھنے پر حق بجانب ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کیمیا گری کے کئی نسخہ ہائے جات کو آشکار کرنے کا ارادہ تھا مگر سوچ پر پہرے بٹھا دئیے کہ اگر یہ بتا دیا کہ زندگی ایک ہفتہ میں فقیری سے امیری میں کیسے بدل سکتی ہے تو ایک سے دو بنانے والے بنا محنت کے منزل پانےکی جستجو  کرنے والے اور تقدیر سے زیادہ طاقت سے حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے تمنا کے روشن آلاؤ کے گرد حصار بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔
ڈاکٹری انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا نہ ہونے سے پڑھے لکھوں میں شمار بھی نہ ہوے۔ جسے جاننے کا جنون رہا اسے جاننے ہی کی کوشش میں رہے۔ جاننا اتنا کافی بھی نہیں مگر تھوڑا بہت جان ہی گئے۔ وقت سے پہلے وقت کا ادراک۔
گھر میں سب ہی چیونٹیوں کی مٹر گشت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ بیچاریاں انتہائی خاموشی سے کونے کھدروں سے روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہیں۔پھر بھی ان کے قتل عام کا حکم صادر کرنےکا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ سینکروں کی تعداد میں دھواں اُڑاتی ہارن بجاتی شہر شہر گاؤں گاؤں دھول چٹاتی موٹر کاریں گھروں میں نہلا دھلا کر سجائی جاتی ہیں۔ گدھا / بیل گاڑی سے بہت تیز رفتار ہونے کی وجہ سے سینکڑوں منٹ روزانہ ہزاروں منٹ مہینہ اور لاکھوں منٹ سالانہ بچاتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ابن بطوطہ ارسطو افلاطون بنانے سے بھی نہیں بنتے۔ تراشے ہوئے لکڑی کے قلم کی تحاریر کمپیوٹر کمپوزنگ سے کئی گنا سست رفتاری کا شکار تھیں مگر شاہکار بھی تھیں۔ آج جتنے پلاسٹک کے بال پین ہیں کتابیں تعداد میں کسی طور ان سے کم نہیں۔ ایک اخبار روزانہ کی بنیاد پر جمع ہوتے ہوتے کئی سال بعد کئی من ردی کی صورت صرف بکتا ہے۔ جو کسی طور علمی کتاب گھر نہیں کہلا سکتیں۔
علم ایسی کونپل ہے جو  پیوند کاری سے نو خیز پودوں میں اپنی صورت پروان چڑھتا ہے۔ تعلیم دی جاتی ہے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ علم چرایا نہیں جاتا تو بیچا بھی نہیں جا سکتا۔جو بیچی جاتی ہے وہ تعلیم ہے۔مول تول کرنے والا سودا گر ہوا کرتا
ہے۔جو علم صرف پڑھنے سے مل جائے اسے سمجھنے کے لئے صرف پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحریر ! محمودالحق
در دستک >>

سوشل نیٹ ورک

Flag Counter